انوارالعلوم (جلد 24) — Page 421
انوار العلوم جلد 24 421 اپنے اندر پجہتی پیدا کر و اور پہلے سے بھی زیادہ جوش سے اگر میں گیا تو میری تنخواہ کٹ جائے گی۔وہ تھا بے وقوف آخر جب لمبا عرصہ گزر گیا تو لوگوں نے اس کے بیوی بچوں کو سمجھایا کہ یہ طریق درست نہیں ہم اسے بلواتے ہیں۔چنانچہ پنچوں نے اسے خط لکھا کہ تمہاری بیوی بیوہ ہو گئی ہے اور تمہارے بچے یتیم ہو گئے ہیں اس لئے تم جلدی گھر پہنچو۔وہ عدالت کا چپڑاسی تھا۔خط ملتے ہی روتا ہو اعدالت میں گیا اور کہنے لگا حضور مجھے چھٹی دیں۔انہوں نے کہا کیا ہوا؟ کہنے لگا کہ خط آیا ہے میری بیوی بیوہ ہو گئی ہے اور بچے یتیم ہو گئے ہیں۔وہ کہنے لگے احمق ! تو تو زندہ موجود ہے پھر تیری بیوی کس طرح بیوہ ہو گئی اور تیرے بچے کس طرح یتیم ہو گئے ؟ وہ خط نکال کر کہنے لگا کہ آپ کی بات تو ٹھیک ہے لیکن دیکھئے پانچ پہنچوں کے اس پر دستخط ہیں پھر یہ بات جھوٹی کس طرح ہو گئی۔تو ایسے لوگ بھی دنیا میں ہوتے ہیں اور در حقیقت یہی قوم کو تباہ کرنے کا موجب ہوتے ہیں۔کہتے ہیں دس نے یہ کہا اور یہ نہیں دیکھتے کہ حقیقت کیا ہے۔اگر دس نے کہا کہ قوم بے ایمان ہو گئی ہے ، اگر دس نے کہا اپنی قوم دیانت کھو بیٹھی ہے تو وہ اس پر فور یقین کر لیں گے اور کہنا شروع کر دیں گے کہ واقع میں قوم بے ایمان ہو گئی ہے۔ان کی آنکھوں کے سامنے چیز موجود ہو گی مگر وہ اسے دیکھیں گے نہیں۔تو جب ایک شخ کی حالت بگڑتی ہے اس کے ہمسایہ کی بھی بگڑ جاتی ہے۔اوّل تو جس کے دل کی حالت بگڑتی ہے اس کی زبان پر بھی کچھ نہ کچھ آجاتا ہے اور سننے والوں میں سے کمزور لوگ اس کی باتوں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔اور اگر ایسا نہ ہو تب بھی اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بنایا ہے کہ انسان کے قلب سے ایسی شعاعیں نکلتی ہیں کہ جو ارد گرد بیٹھنے والوں پر اثر کرتی ہیں۔اسی لئے قرآن کریم کہتا ہے کہ كُونُوا مَعَ الصَّدِقِيْنَ 3 تم صادق اور راستباز لوگوں کی صحبت میں رہا کرو اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے نماز با جماعت مقرر کی ہے تا دلی اثرات ایک دوسرے پر پڑیں۔یوں تو نیک کے بھی اثرات ہوتے ہیں اور بد کے بھی اثرات ہوتے ہیں مگر جب قوم میں نیکی ہوتی ہے تو نیک اثرات کا غلبہ ہو تا ہے اور جب قوم میں بدی ہوتی ہے تو بد اثرات کا غلبہ ہوتا ہے۔گوبدی میں چونکہ اتناجوش نہیں ہوتا جتنا ایسی نیکی میں ہوتا ہے