انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 377

انوار العلوم جلد 24 377 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان جو الفضل کے 13 اگست 1948ء کے پرچہ میں شائع ہوئی ہے؟ جواب: جی ہاں۔سوال: آپ نے جب اپنی تقریر میں ذیل کے الفاظ کہے تو اس سے آپ کی کیا مراد تھی؟ یاد رکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک ہماری base مضبوط نہ ہو۔پہلے base مضبوط ہو تو تبلیغ ہو سکتی ہے۔“ جواب: یہ الفاظ اپنی تشریح آپ کرتے ہیں۔سوال: اور آپ نے جب یہ کہا تھا کہ بلوچستان کو احمدی بنایا جائے تاکہ ہم کم از کم ایک صوبہ کو تو اپنا کہہ سکیں۔تو اس سے آپ کا کیا مطلب تھا؟ جواب: میرے ایسا کہنے کے دو سبب تھے (1) موجودہ نواب قلات کے دادا احمدی تھے اور (2) بلوچستان ایک چھوٹا سا صوبہ ہے۔سوال: کیا آپ نے اپنے خطبہ جمعہ میں مندرجہ ذیل الفاظ کہے تھے جو الفضل 22۔اکتوبر 1948ء(دستاویز ڈی۔ای210) میں شائع ہوئے ہیں ؟ میں یہ جانتا ہوں کہ اب یہ صوبہ ہمارے ہاتھوں سے نکل نہیں سکتا۔یہ ہمارا ہی شکار ہو گا۔دُنیا کی ساری قومیں مل کر بھی ہم سے یہ علاقہ چھین نہیں سکتیں۔“ جواب: جی ہاں۔لیکن اس عبارت کو اس کے لفظی معنوں میں نہیں لینا چاہئے۔یہاں مستقبل کا ذکر ہے۔میں صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ چونکہ اس صوبہ میں ایک احمدی فوجی افسر قتل ہوا ہے اس لئے یہ صوبہ لازماً احمدی ہو کر رہے گا۔سوال: کیار بوہ ایک خالص احمدی نو آبادی ہے؟ جواب: یہ زمین صدر انجمن احمدیہ نے خریدی تھی اور اسی کی ملکیت ہے۔انجمن کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کے متعلق جو چاہے انتظام کرے لیکن بعض غیر احمدیوں نے بھی زمین خریدنے کے لئے درخواست دی تھی۔اس پر انجمن نے کہا کہ اسے اچھے ہمسائیوں کی موجودگی پر کوئی اعتراض نہیں۔