انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 361

انوار العلوم جلد 24 361 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان سوال: کیا اسلامی نظام میں کفار یعنی غیر مسلموں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قانون سازی اور قانون کے نفاذ میں حصہ لیں اور کیا وہ اعلیٰ انتظامی ذمہ داری کے عہدوں پر فائز ہو سکتے ہیں؟ جواب: میرے نزدیک قرآن نے جس حکومت کو خالص اسلامی حکومت کہا ہے اُس کا قیام موجودہ حالات میں ناممکن ہے۔اسلامی حکومت کی اس تعریف کے مطابق یہ ضروری ہے کہ دُنیا کے تمام مسلمان ایک سیاسی وحدت میں منسلک ہوں۔مگر موجودہ حالات میں یہ صورت بالکل نا قابلِ عمل ہے۔سوال: کیا کبھی اسلامی حکومت قائم رہی بھی ہے؟ جواب: جی ہاں۔خلفائے راشدین کی اسلامی جمہوریت کے زمانہ میں۔سوال: اس جمہوریہ میں کفار کی کیا حیثیت تھی؟ کیا وہ قانون سازی اور نفاذ قانون میں حصہ لے سکتے تھے اور کیا وہ انتظامیہ کی اعلیٰ ذمہ داریوں کے عہدوں پر متمکن ہو سکتے تھے؟ جواب یہ سوال اُس وقت پیدا ہی نہیں ہوا تھا کیونکہ اسلامی جمہوریہ کے دور میں مسلمانوں اور کفار میں مسلسل جنگ جاری رہی اور جو کفار مفتوح ہو جاتے تھے اسلامی مملکت میں اُنہیں وہی حقوق حاصل ہو جاتے تھے جو مسلمانوں کو حاصل ہوتے تھے۔اُن دنوں آجکل جیسی منتخب شدہ اسمبلیاں موجود نہ تھیں۔سوال: کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں عدلیہ علیحدہ ہوتی تھی؟ جواب: اُن دنوں سب سے بڑی عدلیہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔سوال: کیا اسلامی طرز کی حکومت میں ایک کافر کو حق حاصل ہے کہ وہ کھلے طور پر اپنے مذہب کی تبلیغ کرے؟ جواب: جی ہاں۔سوال: اسلامی مملکت میں اگر کوئی مسلمان مذاہب کے تقابلی مطالعہ کے بعد دیانتداری کے ساتھ اسلام کو ترک کر کے کوئی دوسر امذ ہب اختیار کر لیتا ہے مثلاً عیسائی یا