انوارالعلوم (جلد 24) — Page 335
انوار العلوم جلد 24 335 سیر روحانی (7) مسجد نبوی میں بیٹھ کر تمام دیکھو!مسلمانوں نے سچے دل سے یہ نوبت بجائی تھی پھر کس طرح وہ مدینہ سے نکل کر ساری دنیا دنیا کو فتح کرنے کے عزائم میں پھیل گئے۔دنیا میں اس وقت دو ہی حقیقی حکومتیں تھیں ایک قیصر کی حکومت تھی جو مغرب پر حاکم تھی اور ایک کسری کی حکومت تھی جو مشرق کی مالک تھی۔مگر اس نوبت خانہ میں جو بظاہر اتنا حقیر تھا کہ کھجور کی ٹہنیوں سے اُس کی چھت بنائی گئی تھی، پانی برستا تھا تو زمین گیلی ہو جاتی تھی اور اُس کے نوبت بجانے والے جب اُس میں جا کر اپنے آقا کے سامنے جھکتے تھے تو ان کے گھٹے کیچڑ سے بھر جاتے تھے اور اُن کے ماتھے مٹی سے بھر جاتے تھے۔یہ لوگ تھے جو قیصر اور سری کی حکومت کو تباہ کرنے کے لئے آئے تھے۔یورپ کا ایک مصنف اپنے انصاف اور قلبی عدل کی وجہ سے لکھتا ہے کہ میں اسلام کو نہیں مانتا، میں عیسائی پادریوں کی باتوں سے سمجھتاہوں کہ جس طرح وہ کہتے ہیں اسلام جھوٹا ہی ہو گا لیکن میں جب تاریخ پڑھتا ہوں تو تیرہ سو سال کا زمانہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ایک کچا مکان ہے، اس کے اوپر کھجور کی ٹہنیوں کی چھت پڑی ہوئی ہے، بارش ہوتی ہے تو اُس میں پانی آجاتا ہے (حدیثوں میں یہ واقعات آئے ہیں کہ بارش ہوتی تو پانی ٹپکنے لگ جاتا) اور جب وہ نمازوں کے لئے کھڑے ہوتے تو گھنٹوں تک کیچڑ لگا ہوا ہو تا تھا اور کوئی خشک جگہ اُن کو بیٹھنے کے لئے نہیں ملتی، جب عبادت کر کے پھر وہ اکٹھے ہو کر باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو میں عالم خیال میں قریب سے اُن کی باتوں کو سنتا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ اُن کے پھٹے ہوئے کپڑے ہیں، کسی کے پاس گرتہ ہے تو تہہ بند نہیں ہے، کسی کے پاس تہہ بند ہے تو گر تہ نہیں ہے، کسی کے سر پر ٹوپی ہے تو جوتی نہیں ہے، کسی کے پاس نچھٹی ہوئی بھوتی ہے تو ٹوپی نہیں اور وہ سر گوشیاں کر رہے ہیں اور میں قریب ہو کر اُن کی باتیں سنتا ہوں کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔جب میں قریب پہنچتا ہوں تو وہ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں دنیا کی بادشاہت عطا کر دی ہے۔ہم مشرق پر بھی قابض ہو جائیں گے اور ہم مغرب پر بھی قابض ہو جائیں گے، ہم شمال پر بھی قابض ہو جائیں گے اور ہم