انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 333

انوار العلوم جلد 24 333 سیر روحانی (7) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی تھے بہت بدصورت، نہایت ایک کر یہہ المنظر صحابی سے پیار کر یہہ اور جسم پر بڑے بڑے بال جیسے بکری کے ہوتے ہیں اور آنکھیں بھی خراب۔غرض اُن کے جسم کی حالت ایسی تھی جسے دیکھ کر کھین آتی تھی اور لوگ انہیں مزدوری پر لگانے سے بھی بھن کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں سے گزرے اور اُسکو دیکھا۔کسی نے اُن کو گندم کے ڈھیر کے پاس کھڑا کر دیا تھا کہ تم ذرا حساب کرو۔اسے بیچنا ہے اور وہ کھڑے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ کسی نے گندم لینی ہو تو لے لے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو دیکھا۔اُسوقت اُن کی حالت ایسی تھی کہ پسینہ اُن کو آرہا تھا، دھوپ میں کھڑے تھے ، مزدوری بھی شاید اُن کو بہت تھوڑی ملنی تھی، غرض تکلیف کی بہت سی علامات تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں دیکھ کر احساس ہوا کہ دیکھو ان کو سخت تکلیف ہو رہی ہے۔آپؐ پیچھے پیچھے آہستہ قدم چلتے گئے اور اُن کی آنکھوں پر جیسے بچے کھیلتے ہیں ہاتھ رکھ دیئے۔اُس نے اِدھر اُدھر ہاتھ مار کر دیکھا اور خیال کیا کہ میرے جیسے آدمی سے پیار کون کر سکتا ہے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں، کھن کھاتے ہیں لیکن یہ کون میرا دوست اور خیر خواہ آگیا جو مجھے پیار کرنے لگا ہے۔اِدھر اُدھر ہاتھ مارنے شروع کئے، آخر اُن کے ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کلائی پر پڑے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم میں یہ خوبی تھی کہ آپ کے بال بہت کم تھے اور مشہور تھا کہ آپ کا جسم بہت ملائم ہے۔اس نے ہاتھ ملے تو سمجھ گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پیار کر رہے ہیں تو میں بھی نخرے کروں۔اس کے جسم پر مٹی لگی ہوئی تھی، پسینہ آیا ہوا تھا اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب میل ملنی شروع کر دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ پہچان گیا ہے۔آپ نے فرمایا لو گو ! میں ایک غلام بیچتا ہوں کسی نے خریدنا ہے؟ جب آپ نے یہ فرمایا تو اس کو اپنی حالت پھر یاد آگئی اور اُس نے بڑی ہی افسردگی سے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میر اخریدار دنیا میں کون ہو سکتا ہے؟ ا