انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 305

انوار العلوم جلد 24 305 سیر روحانی (7) کر رہے ہیں کہ چاروں طرف سے ہندو اور سکھ حملہ کر رہے ہیں اور مار رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ تم اپنے پاس کوئی ہتھیار نہ رکھو آپ یہ بتائیں کہ ہم جان کیسے بچائیں گے ؟ کہنے لگے۔کہیئے ہم بچائیں گے ، حکومت بچائے گی۔جب انہوں نے کہا حکومت بچائے گی تو میں نے کہا بہت اچھا۔میں اُسوقت اپنے ساتھ تمام علاقہ کا نقشہ لے کر گیا تھا۔میں نے کہا قادیان کے گر د 80 گاؤں پر حملہ ہو چکا ہے جو ہندوؤں اور سکھوں نے جلا دیئے ہیں اور لوگ مار دیئے ہیں۔میں یہ نقشہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جب میں اُن سے کہوں گا کہ دیکھو! اپنے پاس ہتھیار نہ رکھو کیونکہ حکومت تمہیں بچائے گی تو وہ کہیں گے کہ سب سے آخری گاؤں جو حد پر تھا جس پر حملہ ہوا تو کیا گور نمنٹ نے اُسے بچایا۔میں کہوں گا ارے گورنمنٹ خدا تھوڑی ہی ہے۔اُسے آخر آہستہ آہستہ پتہ لگتا ہے کچھ عقل کر و دوچار دن میں گورنمنٹ آجائے گی۔پھر وہ اگلے گاؤں پر ہاتھ رکھیں گے تین دن ہوئے یہ گاؤں جلا تھا کیا گورنمنٹ نے مسلمانوں کو کوئی امداد دی ؟ میں کہوں گا خیر کچھ دیر تو لگ جاتی ہے تو وہ اگلے گاؤں پر ہاتھ رکھیں گے اچھا ہم مان لیتے ہیں کہ کچھ دیر لگنا ضروری ہے مگر اس گاؤں پر حملہ کے وقت حکومت نے حفاظت کا انتظام کیوں نہ کیا۔میں نے کہا یہ 80 گاؤں ہیں۔80 گاؤں پر پہنچ کر وہ مجھے فاتر العقل سمجھنے لگ جائیں گے یا نہیں کہ جتنے گاؤں ہم پیش کر رہے ہیں اُن میں سے کسی پر بھی حملہ ہوا تو حکومت نہیں آئی۔شر مندہ ہو گئے اور کہنے لگے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ امن قائم رکھوں گا۔میں نے کہا کتنی دیر میں؟ کہنے لگے پندرہ دن میں۔پندرہ دن میں ریلیں بھی چلا دیں گے تاریں بھی کھل جائیں گی، ڈاکخانے بھی کھل جائیں گے اور ٹیلیفون بھی جاری ہو جائے گا۔آپ چند دن صبر کریں۔میں نے کہا۔بہت اچھا ہم صبر کر لیتے ہیں لیکن جب پندرہ دن ختم ہوئے تو آخری حملہ قادیان پر ہوا۔جس میں سب لوگوں کو نکال دیا گیا۔پھر ان حملوں میں بچے مارے گئے اور ایسے ایسے ظالمانہ طور پر قتل کئے گئے کہ بچوں کے پیٹوں میں نیزے مار مار کے انہیں قتل کیا گیا۔ہم نے اُسوقت تصویریں لی تھیں جن سے ظاہر ہو تا تھا کہ بچوں کے ناک کاٹے ہوئے ہیں کان چرے ہوئے ہیں پیٹ چرا ہوا ہے