انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxi of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page xxxi

xxi انوار لعلوم جلد 24 " پھل تو سب باغوں میں آتے ہیں۔باغبان کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ ان کی حفاظت کرے۔خدام الاحمدیہ کا قیام بھی اسی لئے کیا گیا ہے کہ بچپن اور نوجوانی میں بعض لوگ بیرونی اثرات کے ماتحت کمزور ہو جاتے ہیں اور ان میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔بعض لوگ دوسری سوسائٹیوں سے بُرا اثر قبول کر لیتے ہیں اور بعض تربیت کے نقائص کی وجہ سے آوارگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض یہ ہے کہ اس بیرونی تغیر کو جماعت احمدیہ میں داخل نہ ہونے دیں۔اور اس مقصد کو ہمیشہ نوجوانوں کے سامنے رکھیں جس کے پورا کرنے کے لئے جماعت احمدیہ قائم کی گئی ہے۔اگر نوجوانوں میں یہ روح پیدا کر دی جائے تو پھر بے شک شرارت کرنے والے شرارت کرتے رہیں۔خواہ اپنے ہوں یا غیر سب کے سب ناکام رہیں گے۔“ (انوار العلوم جلد 24 صفحہ 456) (11) تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے 16 دسمبر 1954ء کو ربوہ میں تعلیم الاسلام کالج کا افتتاح فرمایا۔کالج کے پرنسپل مکرم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم اے آکسن نے حضور کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا جس میں اُن تمام مراحل کی تفصیل تھی جن سے گزر کر ایک عظیم الشان عمارت پایۂ تکمیل کو پہنچی۔اس کے بعد حضور نے ایک پر معارف خطاب فرمایا جس میں حضور نے اساتذہ ، طلبہ اور اس تقریب میں شامل ہونے والے مہمانوں کو بہت ہی قیمتی نصائح سے نوازا۔اپنے خطاب کے آغاز پر حضور نے اس کالج کے نام کے حوالہ سے فرمایا کہ :۔”جیسا کہ اس کالج کے نام سے ظاہر ہے اس کے بنانے والوں کی غرض یہ تھی کہ اس کا لج میں طلباء اسلام کی تعلیم سیکھیں۔یعنی وہ یہاں آکر جہاں دنیوی علوم حاصل کریں وہاں وہ قرآن کریم کے پیش کردہ علوم کو بھی حاصل کریں"۔) انوار العلوم جلد 24 صفحہ 463)