انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 272

انوار العلوم جلد 24 272 سیر روحانی (7) جس نے اپنے گھر کے دروازے بند کر لئے وہ معاف۔تو بلال کے دل میں خیال آتا ہو گا کہ یہ تو اپنے سارے بھائیوں کو معاف کر رہے ہیں اور اچھا کر رہے ہیں لیکن میر ابدلہ تورہ گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ آج صرف ایک شخص ہے جس کو میرے معاف کرنے سے تکلیف پہنچ سکتی ہے اور وہ بلال ہے کہ جن کو میں معاف کر رہا ہوں وہ اُس کے بھائی نہیں۔جو اُس کو دکھ دیا گیا ہے وہ اور کسی کو نہیں دیا گیا۔آپ نے فرمایا میں اس کا بدلہ لونگا اور اِس طرح لونگا کہ میری نبوت کی بھی شان باقی رہے اور بلال کا دل بھی خوش ہو جائے۔آپؐ نے فرمایا بلال کا جھنڈا کھڑا کرو اوران مکہ کے سرداروں کو جو جو تیاں لے کر اُس کے سینہ پر ناچا کرتے تھے ، جو اُس کے پاؤں میں رسی ڈال کر گھسیٹا کرتے تھے ، جو اُسے تپتی ریتوں پر لٹایا کرتے تھے کہدو کہ اگر اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی جان بچانی ہے تو بلال کے جھنڈے کے نیچے آجاؤ۔میں سمجھتا ہوں جب سے دُنیا پید اہوئی ہے، جب سے انسان کو طاقت حاصل ہوئی ہے اور جب سے کوئی انسان دوسرے انسان سے اپنے خون کا بدلہ لینے پر تیار ہوا ہے اور اُس کو طاقت ملی ہے اِس قسم کا بدلہ کسی انسان نے نہیں لیا۔جب بلال کا جھنڈا خانہ کعبہ کے سامنے میدان میں گاڑ ا گیا ہو گا، جب عرب کے وہ رؤساء جو اُسکو پیروں سے مسلا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے بولتا ہے کہ نہیں کہ محمد رسول اللہ جھوٹا ہے جب وہ دوڑ دوڑ کر اور اپنے بیوی بچوں کے ہاتھ پکڑ پکڑ کر اور لالا کے بلال کے جھنڈے کے نیچے لاتے ہونگے کہ ہماری جان بچ جائے تو اُس وقت بلال کا دل اور اُس کی جان کس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نچھاور ہو رہی ہو گی۔وہ کہتا ہو گا میں نے تو خبر نہیں اِن کفار سے بدلہ لینا تھایا نہیں یا لے سکتا تھا کہ نہیں اب وہ بدلہ لیا گیا ہے کہ ہر شخص جس کی جو تیاں میرے سینہ پر پڑتی تھیں اس کے سر کو میری جوتی پر جھکا دیا گیا ہے۔حضرت یوسف کے بدلہ سے زیادہ شاندار بدلہ یہ وہ بدلہ تھا جو الشان یوسف کے بدلہ سے بھی زیادہ شاندار تھا اس لئے کہ یوسف نے اپنے باپ کی خاطر اپنے بھائیوں کو معاف کیا تھا۔