انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 270

انوار العلوم جلد 24 270 سیر روحانی (7) حضرت بلال کا جھنڈ ا کھڑا کرنے میں حکمت اس واقعہ میں جو سب سے زیادہ عظیم الشان بات ہے وہ بلال کا جھنڈا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلال کا جھنڈ ا بناتے ہیں اور فرماتے ہیں جو شخص بلال کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو جائے گا اُس کو پناہ دی جائے گی حالانکہ سردار تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا، آپؐ کے بعد قربانی کرنے والے ابو بکر تھے مگر ابو بکر کا بھی کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا، اُن کے بعد مسلمان ہونے والے رئیس عمر تھے مگر عمری کا بھی کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا، اُن کے بعد عثمان مقبول تھے اور آپ کے داماد تھے مگر عثمان کا بھی کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا، اُن کے بعد علی تھے جو آپ کے بھائی بھی تھے اور آپ کے داماد بھی تھے مگر علی کا کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا، پھر عبد الرحمن بن عوف وہ شخص تھے جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آپ وہ شخص ہیں کہ جب تک آپ زندہ ہیں مسلمان قوم میں اختلاف نہیں ہو گا لیکن عبد الرحمن کا کوئی جھنڈا نہیں بنایا جاتا، پھر عباس آپ کے چچا تھے اور بعض دفعہ وہ گستاخی بھی کر لیتے تو آپ خفا نہ ہوتے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کا بھی کوئی جھنڈا نہیں بنایا، پھر سارے رؤساء اور چوٹی کے آدمی موجود تھے ، خالد بن ولید جو ایک سردار کا بیٹا خود بڑا نامور انسان تھا موجود تھا، عمرو بن عاص ایک سردار کا بیٹا تھا اسی طرح اور بڑے بڑے سر داروں کے بیٹے تھے مگر ان میں سے کسی ایک کا بھی جھنڈا نہیں بنایا جاتا۔جھنڈ ابنایا جاتا ہے تو بلال کا بنایا جاتا ہے کیوں؟ اسکی کیا وجہ تھی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ خانہ کعبہ پر جب حملہ ہونے لگا تھا ابو بکر دیکھ رہا تھا کہ جن کو مارا جانے والا ہے وہ اُس کے بھائی بند ہیں اور اُس نے خود بھی کہہ دیا تھا کہ يَارَسُولَ اللہ ! کیا اپنے بھائیوں کو ماریں گے۔وہ ظلموں کو بھول چکا تھا اور جانتا تھا کہ یہ میرے بھائی ہیں۔عمر بھی کہتے تو یہی تھے کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! ان کافروں کو ماریئے مگر پھر بھی جب آپ اُن کو معاف کرنے پر آئے تو وہ اپنے دل میں یہی کہتے ہو نگے کہ اچھا ہوا ہمارے بھائی بخشے گئے، عثمان اور علی بھی کہتے ہونگے کہ ย