انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 264

انوار العلوم جلد 24 264 سیر روحانی (7) کوئی بچانے والا نہیں اس لئے میں نے یہ خط لکھدیا۔میں جانتا ہوں کہ خدا نے آپ کی مدد کرنی ہے۔جب انہوں نے تباہ ہو جانا ہے اور خدا کہتا ہے کہ ہو جانا ہے تو وہ تباہ ہی ہو جائیں گے چاہے میں انکو ہز ار خط لکھوں مگر اِس طرح میرے بیوی بچے بچ جاتے تھے اور آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو تا تھا ورنہ میں بے ایمان نہیں۔حضرت عمر کھڑے ہوئے تھے انہوں نے تلوار نکال لی کہ کمبخت! رات دن ہم چھپاتے چلے آرہے ہیں کہ بات کسی طرح نکلے نہیں اور تو اُن کو خط لکھتا ہے۔يَارَسُولَ اللہ ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی گر دن اُڑا دوں۔آپ نے فرمایا کہ جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے یہ مؤمن ہے اس نے صرف ڈر کے مارے یہ بات کی ہے۔24 بہر حال یہ رپورٹ کسی کو نہیں پہنچتی۔نوبت خانہ بجتا بھی ہے تو اس کی آواز وہیں روک دی جاتی ہے۔ادھر سے نوبت خانہ ڈیڑھ سال پہلے بجتا ہے کہ دشمن آگیا دشمن آ گیا۔ابو سفیان کی سراسیمگی اب جس وقت وہاں مسلمان پہنچے تو جب تک مسلمان حرم میں نہیں پہنچ گئے مکہ والوں کو خبر نہیں پہنچی۔جب وہاں پہنچے تو ابوسفیان اور اُس کے ساتھیوں کا مکہ والوں کی طرف سے پہرہ مقرر تھا۔گویا اب یہ صورت ہو گئی کہ جب وہاں پہنچے تو اُن کو خبر ہو گئی کہ اسلامی لشکر آگیا ہے مگر اب اللہ تعالیٰ اس کا بھی علاج کر لیتا ہے۔آپ نے وہاں جا کر فرمایا کہ اب ہمیں ان پر ظاہر کر دینا چاہئے کہ ہم آگئے ہیں۔چنانچہ آپ نے حکم دیا کہ ہر سپاہی روٹی کے لئے علیحدہ آگ جلائے تا کہ دس ہزار روشنی ہو جائے۔چنانچہ سب خیموں کے آگے دس ہزار روشنی دکھائی دینے لگی۔ابو سفیان اور اُس کے ساتھیوں نے آگ کو روشن دیکھا تو وہ گھبرا گئے۔اتنا بڑا لشکر اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا۔اسی گھبراہٹ میں ابوسفیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔کیا تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ یہ کس کا لشکر ہے ؟ پہلے تو اُن کا خزاعہ کی طرف خیال گیا اور انہوں نے کہا کہ شاید خزاعہ والے ہونگے جو اپنا بدلہ لینے آئے ہیں۔ابوسفیان نے کہا خُدا کا خوف کرو خزاعہ تو اس کا دسواں حصہ بھی نہیں یہ اتنی بڑی روشنی ہے اور اتنا بڑا لشکر ہے کہ خزاعہ کی اس کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔