انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 251

انوار العلوم جلد 24 251 سیر روحانی (7) خدائی نوبت خانہ کی ایک اور خبر اب یہ جو اطلاع ملی تھی کہ دشمن آئے گا اور حملہ کرے گا اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہو گی اس کے واقعات کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح ہوئے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پہلے تو قریباً ڈیڑھ سال پہلے نوبت خانہ نے اطلاع دی کہ دشمن آئے گا، اس کے بعد جب یہ وقت قریب آگیا تو خدائی نوبت خانہ نے پھر دشمن کے حملہ کی خبر دی۔چنانچہ جب دشمن کے آنے کا وقت قریب آگیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات میری باری میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں سورہے تھے۔جب آپ تہجد کے لئے اُٹھے تو آپ وضو فرماتے ہوئے بولے اور مجھے آواز آئی کہ آپ فرما رہے ہیں۔لہنگ۔لَبَیگ۔لبیگ۔اس کے بعد آپ نے فرمایا۔نَصِرْتَ نَصِرْتَ۔نصِرْتَ۔وہ کہتی ہیں۔جب آپ باہر تشریف لائے تو میں نے کہا۔يَارَ سُول اللہ ! کیا کوئی آدمی آیا تھا اور آپ اس سے باتیں کر رہے تھے ؟ آپ نے فرمایا۔ہاں !میرے سامنے کشفی طور پر خزاعہ کا ایک وفد پیش ہوا اور وہ شور مچاتے چلے آرہے تھے کہ ہم محمد کو اس کے خدا کی قسم دے کر کہتے ہیں کہ تیرے ساتھ اور تیرے باپ دادوں کے ساتھ ہم نے معاہدے کئے تھے اور ہم تیری مدد کرتے چلے آئے ہیں مگر قریش نے ہمارے ساتھ بد عہدی کی اور رات کے وقت ہم پر حملہ کر کے جبکہ ہم میں سے کوئی سجدہ میں تھا اور کوئی رکوع میں ہم کو قتل کر دیا اب ہم تیری مدد حاصل کرنے کیلئے آئے ہیں۔غرض میں نے دیکھا کہ خزاعہ کا آدمی کھڑا ہے۔جب کشفی طور پر وہ آدمی مجھے نظر آیا تو میں نے کہا۔لَبَیکَ لَبَیکَ۔لبیگ۔میں تمہاری مدد کے لئے حاضر ہوں میں تمہاری مدد کے لئے حاضر ہوں، میں تمہاری مدد کے لئے حاضر ہوں، پھر میں نے کہا۔نُصِرْتَ۔نُصِرْتَ نُصِرت 14 تجھے مدد دی جائے گی، تجھے مدد دی جائے گی، تجھے مدد دی جائے گی۔پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اُسی دن صبح کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور آپ نے فرمایا۔خزاعہ کے ساتھ ایک خطر ناک واقعہ پیش آیا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے سمجھ لیا کہ