انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 246

انوار العلوم جلد 24 246 سیر روحانی (7) نے کہا تم تو کہتے ہو ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیں۔ارے! مکہ میں کون کہہ سکتا تھا کہ یہ لشکر جمع ہونگے ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا طاقت تھی کہ اس کیلئے دس آدمی بھی جمع ہوتے۔ایک ابو جہل کافی تھا جو کہتا تھا میں اسے مار دو نگا یہ اتنے بڑے لشکر اکٹھے ہو کر اس لئے آگئے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان اب اتنے طاقتور ہو گئے ہیں کہ سارا عرب ان کو مل کر ہی مار سکتا ہے اور یہ خبر جو دس سال پہلے دی گئی تھی کہ مسلمان اتنے طاقتور ہو جائیں گے کہ سارا عرب جمع ہو کر اُن کے مقابلہ کے لئے آئے گا یہ بڑا بھاری نشان ہے یا نہیں ؟ تو هذَا مَا وَعَدَنَا اللهُ۔دیکھو یہ وعدہ قرآن میں پہلے سے موجود تھا کہ عرب اکٹھے ہو کر آئیں گے۔ہمارے تو ایمان تازہ ہو گئے کہ جس وقت یہ خبر دی گئی تھی کہ عرب اکٹھے ہو کر آئیں گے اُس وقت کوئی امکان ہی نہیں تھا، خیال بھی نہیں آسکتا تھا، وہم بھی نہیں ہو سکتا تھا مگر آج آگئے تو سُبحَانَ اللہ ! یہ تو وہی بات ہوئی جو خدا تعالیٰ نے کہی تھی اور خدا اور اس کار سول سچے ثابت ہو گئے۔پس ہمیں کیا ڈر ہے اب تو ہم ان کے ساتھ اور چمٹیں گے۔وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَ تَسليمًا۔اور اس آواز کے آنے سے اُن کے ایمان اور بھی بڑھ گئے اور انہوں نے کہا کہ کتنی بڑی پیشگوئی تھی جو پوری ہو گئی۔انہوں نے تو کہا تھا کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دو وَ مَا زَادَهُمْ إِلَّا إيمَانًا وَ تَسليمًا۔مگر مسلمانوں نے کہا کہ اب تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں ہی ہمیں اپنی نجات نظر آتی ہے۔جس شخص کی یہ خبر سچی ہو گئی ہے اُس کے ساتھ مل کر ہم نے کام نہیں کرنا تو اور کیس کے ساتھ کرنا ہے۔پس وہ اپنے عمل اور قربانی میں اور بھی زیادہ ترقی کر گئے۔غرض یہ وہ جنگ تھی جو کہ پانچویں سال ہجرت میں ہوئی لیکن چار سال کے قریب ہجرت سے بھی پہلے مکہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بتا دیا تھا کہ اس طرح تمام لشکر اکٹھے ہو کر آئیں گے اور حملہ کریں گے تم اُن کا مقابلہ کرو گے اور اُن کو شکست ہو جائے گی اور خد اتعالیٰ تمہاری مدد کیلئے آئے گا۔