انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 245

انوار العلوم جلد 24 245 سیر روحانی (7) مسلمانوں کی کمزوری پر منافقین کی طعنہ زنی غرض جب یہ باتیں پوری ہوئیں تو منافقوں کیلئے یہ بڑی تباہ کن چیز تھی۔ انہوں نے خیال کیا اب تو مارے گئے۔ اِدھر سے یہو دی چلے آرہے ہیں اُدھر سے عرب قبائل چلے آرہے ہیں ، اُدھر مکہ کے لشکر چلے آرہے ہیں ۔ غرض دس بارہ ہزار کا لشکر آرہا ہے اور مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ اُن کے مقابلہ میں اتن سپاہی تو کجا، ان کے پاس اس سے نصف بھی سپاہی نہیں وہ مقابلہ کہاں کریں گے۔ اور یہ حالت پہنچ گئی کہ وَ إِذْ قَ وَإِذْ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ يَأَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا منافق جو ڈر کے مارے مسلمانوں کی ہاں میں ہاں ملایا کرتے تھے کہ ہم بھی مسلمان ہیں اُن کو بھی اتنی دلیری پیدا ہو گئی کہ انہوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ارے میاں ! اب بھی یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئی اب تو سارا عرب اکٹھا ہو کر تمہارے خلاف جمع ہو گیا ہے اسلئے اب چھوڑو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آپ بھگتا پھرے گا اور جاؤ اپنے گھروں میں اب اس لڑائی میں مقابلہ کا کوئی فائدہ نہیں۔ مخالف لشکروں کو دیکھ کر صحابہؓ لیکن مسلمانوں نے اسوقت وہی دیکھا جو خان فقیر محمد صاحب چار سدہ والوں نے کے ایمان اور بھی بڑھ گئے دیکھا تھا کہ خدا کی یہ بات پوری ہو گئی ہے اور وہ بات بھی پوری ہو گی ۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَ لَمَّا ذَا الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ صَدَقَ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيْمَانًا وَ تَسْلِيمًا - و یعنی جب مؤمنوں نے دیکھا کہ اُدھر سے شمالی عرب کے لشکر چلے آرہے ہیں اِدھر سے جنوبی عرب کے لشکر چلے آرہے ہیں، اُدھر سے مشرقی عرب کے لشکر چلے آرہے ہیں اِدھر سے مغربی عرب کے لشکر چلے آرہے ہیں ، اُدھر سے مکہ کا لشکر چلا آرہا ہے اِدھر سے یہودی قبائل ارد گرد سے جمع ہو کر چلے آرہے ہیں ، اُدھر سے اندر کے یہودی مقابلہ کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں اور ادھر منافقوں کی بات بھی سنی کہ اب تو تمہارا کچھ نہیں بن سکتا چھوڑو اس دین کو ، تو مسلمانوں