انوارالعلوم (جلد 24) — Page 243
انوار العلوم جلد 24 243 سیر روحانی (7) ایک خط ملا۔اس خط کا مضمون ان الفاظ سے شروع ہوتا تھا کہ میں وہ شخص ہوں جو دہلی کے قلعہ میں آپ سے ملا تھا اور میں نے آپ سے مذاقاً کہا تھا کہ ہم نے احمدیوں اور غیر احمدیوں میں پورا انصاف کر دیا ہے۔اٹھتی ہم نے آپ کو دیدی ہے اور اٹھتی ہم نے انکو دے دی ہے اور آپ نے اُس وقت یہ کہا تھا کہ ہم تو اٹھنی پر راضی نہیں ہوا کرتے ہم تو پورا روپیہ لے کر راضی ہوا کرتے ہیں۔آپ حیران ہونگے کہ میں لندن سے ایک چوٹی آپ کو بھیج رہا ہوں ، ایک چوٹی باقی رہ گئی ہے اور میری بیعت کا یہ خط ہے۔آگے انہوں نے تفصیل لکھی اور اُس میں انہوں نے لکھا کہ میں جس وقت یہاں آیا تو آپ جانتے ہیں ہم پٹھان لوگ ہیں اور ہمیشہ نعروں پر ہماری زندگی ہوتی ہے کہ انگریز ہم کو یوں قتل کریں گے، انگریز ہم کو یوں ماریں گے ، یہ ہوتے کون ہیں۔ہم پستول یا رائفل سے ڈر کریں گے اور وہ بھاگ نکلیں گے۔یہ تو کبھی سوچا نہیں تھا کہ ہمارے پاس کیا سامان ہیں اور ان کے پاس کیا سامان ہیں۔صرف اتنا ہم جانتے تھے کہ ہم اپنی جانیں دے دیں گے اور ان کو مار ڈالیں گے۔یہی خیالات میرے بھی تھے اور میر اخیال تھا کہ ان کی دنیوی ترقی اور کالج وغیرہ دیکھو نگا۔مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ ان کے سامانِ جنگ ایسے ہیں کہ ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔جب میں یورپ میں آیا تو میں اٹلی میں گیا، فرانس میں گیا، جرمنی میں گیا، انگلینڈ میں آیا اور میں نے ان کی فوجیں دیکھیں۔توپ خانے دیکھے ، ہوائی جہاز دیکھے، ان کے گولہ بارود کے کارخانے دیکھے تو میں نے کہا یہ تو ایسی بات ہے جیسے چڑیا کہے کہ میں باز کو مارلونگی ہمارے اندر اس کے لئے کوئی طاقت ہی نہیں اور اس کو دیکھ کر میں بالکل مایوس ہو گیا۔پہلے تو ہم خیال کرتے تھے کہ ہم اتفاقاً انگریز کے ماتحت آگئے ہیں جس دن پٹھان نے رائفل سنبھالی سارے یورپ کو ختم کر دے گا مگر اب تو یہاں آکر معلوم ہوا کہ یوروپین لوگوں کو ختم کر نیکا کوئی سوال ہی نہیں یہ تو قیامت تک باقی رہیں گے ہم انہیں دُنیا سے نہیں مٹا سکتے۔پھر میرے دل میں اسلام کے متعلق شبہات پیدا ہونے شروع ہو گئے کہ جب اسلام کا یہ انجام ہونا تھا اور عیسائیت نے اسے کچل کر رکھ دینا تھا تو پھر عیسائیت ٹھیک ہے۔درمیان میں بے شک اسلام آیا اور اُس کو کچھ غلبہ ملا مگر