انوارالعلوم (جلد 24) — Page 200
انوار العلوم جلد 24 200 متفرق امور وو 66 تمہارا ایک ایسا فخر جسے کوئی چھین نہیں سکتا " الفتح " اخبار مصر کا ایک شدید مخالف اخبار ہے پچیس تیس سال سے وہ ہماری مخالفت کرتا آتا ہے لیکن تبلیغ کے سلسلہ میں اُسے لکھنا پڑا کہ احمدیوں کے مقابلہ میں ہماری شرم سے گردنیں جھک جاتی ہیں ہمارا روپیہ ان سے سینکڑوں گنے زیادہ ہے، ہمارے آدمی ان سے سینکڑوں گنے زیادہ ہیں، ہماری طاقت ان سے سینکڑوں گنے زیادہ ہے لیکن تبلیغ اسلام کے لئے غیر ملکوں میں جا کر جو یہ لوگ کام کر رہے ہیں اس کے مقابلہ میں ہمارے پاس صفر ہے۔ حالانکہ وہ شدید دُشمن ہے لیکن کہتا ہے اس بات میں ہم کو ماننا پڑتا ہے سچائی کا ہم کس طرح انکار کر دیں۔ تو یہ ایک ایسی سے سکائی کا ہم کس طرح انکار کر دی ہے تو ۔ چیز ہے جس میں خدا تعالیٰ نے تم کو ایسا فخر دیا ہے کہ سوائے اس کے کہ کوئی ڈھیٹھ بن کے انکار کر دے اس کے لئے اور کوئی صورت ہی نہیں ہے؟ جیسا کہ روپیہ کسی کے ہاتھ پر رکھ دو تو وہ کہتا جائے کہ کچھ بھی نہیں ہے یا چھوٹے بچے بعض دفعہ کھیلتے ہیں تو یو نہی ماں یا باپ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں کہ میں نے روپیہ دیا ہے مٹھی بند کر لو۔ وہی بات ہے اگر کوئی شخص ہماری تبلیغ دیکھ کر بھی کہتا ہے کہ کوئی تبلیغ نہیں تو ساری دُنیا اس پر ہنستی ہے کہ احمق آدمی ہے تبلیغ ہو رہی ہے ، لوگ مسلمان ہو رہے ہیں یہ کس طرح کہتا ہے کہ تبلیغ نہیں ہو رہی۔ غرض ایک ہی چیز ہے جس کا کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ اگر اس خوبی کو جس کا کوئی بھی دُنیا میں انکار نہیں کر سکتا، جس کو دشمن بھی مانتا ہے تم تلف کر دیتے ہو تو پھر مجھے نہیں سمجھ آتی کہ اور کونسی دلیل ہے جس سے میں تمہیں سمجھا سکوں۔ مسیحیت کو تم برا کہتے ہو، کہتے ہو یہ دجال ہیں لیکن مسیحیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سو سال پہلے کی آئی ہوئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو تیرہ سو پچیس سال کے قریب اور مسیح کے زمانہ کو 1953ء سال گزرے ہیں لیکن باوجود سوا چھ سو سال اوپر ہونے کے اُن کی یہ حالت ہے کہ آج بھی ساری دنیا میں عیسائی مبلغ پھر رہا ہے۔ اور مسلمانوں کو تبلیغ چھوڑے ہوئے بارہ سو سال گزر چکے ہیں بس پہلی صدی کے بعد مسلمانوں نے کہا بہت ہو گیا اب نہیں ضرورت۔ مگر خیر ان کی تو کچھ بات بھی تھی کی