انوارالعلوم (جلد 24) — Page 192
انوار العلوم جلد 24 192 متفرق امور کسی کے ذہن میں نہیں آیا تھا۔پھر یہ ثابت کرنا کہ قرآن سچا ہے اور انجیل جھوٹی ہے یہ بڑا مشکل کام ہے۔تو میں نے انجیل کی شہادتوں کو لے کر پھر یہ ثابت کیا ہے کہ انجیل میں جو بعض مظالم کی طرف اشارہ ہے اُن کے لحاظ سے لازماً یہی ماننا پڑتا ہے کہ وہ اگست ستمبر میں پیدا ہوا تھا اور جھوٹ بول کے ایک اور مصلحت کے لئے اس کی پیدائش دسمبر میں بتائی گئی۔اِس طرح اور کئی نئے مسائل اس بحث میں آئے ہیں۔چونکہ سورۃ مریم میں حضرت مسیح کا واقعہ آتا ہے اس میں کئی نئے مطالب نکلے اور بیان کئے گئے ہیں۔غرض ہمارے علماء کو چاہئے کہ کتب فقہ، حدیث، فلسفہ ، فلسفہ فقہ ، قضاء، فلسفہ قضاء، اسلامی معیشت ، پہلی صدی کی معیشت، مسلمانوں کے تنزیل کے اسباب وغیرہ ایسے مضامین پر کتابیں لکھیں اور اُن کو شائع کریں تاکہ لوگوں میں بھی اُن کی علمیت کی قدر ہو کہ یہ کام اچھا کر رہے ہیں اور جماعت کا بھی علم بڑھے۔چودہ زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم اسی سلسلہ میں ہم نے سمات تراجم کروائے ہیں۔1944ء میں میں نے سات قرآن شریف کے ترجموں کے لئے جماعت میں تحریک کی تھی۔جرمن کے لئے میں نے عورتوں کے کام سپرد کیا تھا کہ جرمن کا ترجمہ عورتوں کے خرچ سے چھپے۔اٹھائیس اٹھائیس ہزار کی میں نے تحریک کی تھی جس کو بعد میں 33،33 ہزار میں بدل دیا گیا تھا۔جرمن کا ترجمہ عورتوں کے سپر د کیا گیا تھا۔اور ڈچ وغیرہ کا ترجمہ بنگال اور اس کے نواحی کے لئے مقرر کیا گیا تھا یعنی بہار وغیرہ کے لئے۔اور فرانس کا ترجمہ جو تھا وہ دہلی اور یوپی وغیرہ کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔اور سپینش کا ترجمہ سرحد اور مغربی اور شمالی پنجاب کے ضلعوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔اور پرتگیزی ترجمہ حیدرآباد اور بمبئی اور مدراس کے سپرد کیا گیا تھا۔اور روسی زبان کا ترجمہ لاہور، سیالکوٹ، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ کے سپر د کیا گیا تھا۔اور اٹالین زبان کا ترجمہ قادیان اور یوروپین ممالک کے جو تھوڑے بہت احمدی ہیں اُن کے سپرد کیا گیا تھا۔تو یہ سات زبانوں کے لئے خدا تعالیٰ کے فضل سے تحریک ہوئی اور جماعت نے بڑے اخلاص سے اور بڑے جوش سے چندہ دیا