انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 179

179 انوار العلوم جلد 24 محسوس کروں گا۔اگر ریویو آف ریلیجنز دس ہزار دنیا کی دس ہزار لائبریریوں میں جائے اور فرض کرو پانچ آدمی بھی اس کو پڑھ لیا کریں تو پچاس ہزار آدمیوں کو ہماری تبلیغ سارے عیسائیوں اور ہندوؤں وغیرہ کو مہینہ میں پہنچ جاتی ہے کہ نہیں ؟ تو لاکھ روپیہ میں ہے کیا رکھا ہوا۔ہماری اس جماعت کے لئے اب لاکھ کچھ چیز نہیں ہے۔دو تین ہزار دینے والا سو آدمی یقیناً ہمارے پاس موجود ہے اگر وہ ہمت کرے۔اور اس کو اور بھی گر ادو ڈ گنے آدمی کر دو۔چلو کچھ ہزار ہزار دینے والے رکھو مثلاً ڈیڑھ سو کر دو۔پانچ پانچ سو دینے والے سو آدمی ہوں اور ہزار ہزار دینے والے پچاس آدمی ہوں۔اسی طرح اور بھی گرایا جاسکتا ہے زیادہ سے زیادہ پانچ سو آدمیوں پر پھیلاؤ تب بھی ایک لاکھ روپیہ آسانی سے ہو جاتا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ خواہش آج تک بھی تشنہ تکمیل رہی ہے۔ہم نے اس خواہش کو ایک سال بھی تو پورا نہیں کیا کہ دس ہزار ریویو آف ریلیجنز دنیا میں شائع کیا جائے۔بہر حال ان اخباروں کا مطالعہ رکھنا چاہئے اور اخباروں کو بھی اپنے آپ کو مفید بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اخبارات اور رسائل کو ہمارے اخباروں کو خواہ مخواہ دوسروں سے الجھنا نہیں چاہئے۔میں دیکھتا ہوں بعض دفعہ بلاوجہ الجھ زیادہ سے زیادہ مفید بناؤ جاتے ہیں کوئی فائدہ نہیں اُس کا ہو تا۔آخر ہر شخص کو اپنا مقام سمجھنا چاہئے۔اپنا کام سمجھنا چاہئے۔ہمیں کیا ضرورت ہے کہ دوسروں کی نقل کرتے پھریں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا واقعہ آتا ہے نہایت دردناک۔کسی مسئلہ کو سوچنے کے لئے آپ صفا میں باہر نکلے او رایک چٹان کے اوپر بیٹھ گئے اور سوچنے لگے۔صبح کا وقت تھا ابو جہل نکلا۔ابھی لوگ چلتے پھرتے کم تھے ادھر آپ کو اُس نے دیکھا کہ سر لٹکائے ہوئے بیٹھے ہیں اکیلے۔تو اُس نے کہا یہ موقع اچھا ہے ان کو ذلیل کرنے کا۔سیدھا آپ کی طرف آیا اور زور سے آپ کے منہ پر تھپڑ مارا۔جب آپ کے منہ پر اُس نے تھپڑ مارا تو آپ نے سر اوپر اٹھایا اور فرمایا اے لوگو! میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے کہ تم بیٹھے بٹھائے بلاوجہ مجھے مارتے ہو ؟ اور پھر آپ نے اس طرح سر جھکا لیا۔حضرت حمزہ