انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 153

انوار العلوم جلد 24 153 کر دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں ہم کیا کریں ہمارے پاس پیسہ ہی نہیں بغیر اس روپیہ کے ہمارا گزارہ ہی نہیں ہے۔اب یہ بھی ایک مصیبت ہوئی کہ لیبیا کو اگر تباہ ہونے دیں تو تب مصیبت۔مصر کو تباہ ہونے دیں تو تب مصیبت۔یہ کوئی ایسے متضاد سوالات پیدا ہو گئے ہیں جن کی وجہ سے دونوں طرف سے آدمی اِدھر جائے تو وہ نگا ہو جاتا ہے اُدھر جاتے تو وہ ننگا ہو جاتا ہے۔عراق کی بھی یہی حالت ہے۔عراق کی بھی مالی حالت انگریزوں کے ساتھ استوار ہے۔دوسرے عراق جو ہے روسی سرحد پر ہے۔عراق جانتا ہے کہ اگر روس نے کسی وقت بھی مجھ پر حملہ کیا اور ضرور کرے گا تو میرے پاس تو طاقت روس کے مقابلہ کی نہیں ہے۔اگر انگریزی فوجیں ہوں گی، انگریزی ہوائی جہاز ہوں گے، انگریزی اڈے ہوں گے تو یہ فوراً لڑنے لگ جائیں گے اس کے بغیر میر اچارہ نہیں۔کچھ عراق میں ایسی طاقتیں پید اہو رہی ہیں اور ایسی پارٹیاں پیدا ہو رہی ہیں جو کہتی ہیں کہ انگریز چلے جائیں لیکن حکومت وقت اور اکثریت نہیں چاہتی کہ انگریز جائیں۔یوں ہیں وہ مصر کے خیر خواہ لیکن اپنے حالات کی وجہ سے وہ انگریزوں سے بگاڑ پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ایران کے تیل کا سوال بڑا اہم ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔عراق بھی سمجھتا ہے کہ انگریز کی مدد سے ہی اُس کا تیل چل رہا ہے اور ابن سعود کی تو ساری آمد ہی اس پر ہے۔اُس کی تین چوتھائی آمد تیل کی وجہ سے ہے اگر انگریزوں سے وہ اپنے تعلقات منقطع کر لیں تو اُن کی ساری آمد جاتی رہے۔یہ خطرات ہیں جو مسلمانوں کو در پیش ہیں مگر ان خطرات کا کوئی علاج نظر نہیں آتا۔اسی طرح انڈونیشیا ہے یہ ملک خدا تعالیٰ کے فضل سے مشرق میں مسلمانوں کی چھاؤنی ہے اس کی آبادی بھی آٹھ کروڑ ہے۔ملک بھی بڑا وسیع ہے اور آدمی بھی اُن کے اِس قدر شریف ہیں کہ جس کی حد کوئی نہیں۔مجھے بعض دفعہ یہ خیال آیا کرتا ہے کہ پاکستان میں جب کبھی سستی پیدا ہوتی ہے احمدیوں میں تو میں سمجھتا ہوں خبر نہیں انڈونیشیا والوں نے آگے نکل جانا ہے۔وہاں کے لوگوں میں شرافت اور قربانی اور