انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 151

انوار العلوم جلد 24 151 متفرق امور ہوائی طاقت اور اس کی دوسری طاقت اتنی بڑی ہے کہ باوجود اس کے کہ ابن سعود کی طاقت اچھی خاصی ہے پھر بھی خوف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی فوجوں کو آگے لیتا چلا جائے تو اُن کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔اور فلسطین کا معاملہ کچھ ایسا پیچیدہ ہو گیا ہے یعنی اُن کے پاس روپیہ بہت تھا، انہوں نے اِس طرح کر کے قابو کیا ہوا ہے امریکن حکومت اور دوسری حکومتوں کو کہ وہ حکومتیں بالکل غلاموں کی طرح ان کی تائید کر رہی ہیں۔جو معاہدہ انہوں نے کر کے (جس وقت فلسطین قائم کیا ہے ) تو جو علاقے انہوں نے عربوں کو دیئے تھے آج وہ عربوں کے قبضہ میں نہیں ہیں وہ فلسطین کے یہودیوں نے چھین لئے ہیں۔اور جو علاقے ان کو دیئے تھے اُن میں سے قریباً سارے پر وہ قابض ہیں۔جو عربوں کو دیئے گئے تھے اُن پر بھی قابض ہیں۔عرب تو یہ چاہتے ہیں کہ اچھا اور نہ سہی۔ہم تو مانتے نہیں ان کی حکومت۔لیکن کم سے کم جو تم نے لیکر دیئے تھے وہ تو ہم کو دو لیکن اب امریکہ اور انگلستان کہتے ہیں کہ خیر اب جو ہو گیا سو ہو گیا اب چلو بس کرو۔تو یہ ایک نا قابل برداشت صورت ہے کہ اول تو خود اپنا معاہدہ بھی نہیں پورا کر اسکتے۔پھر غیر قوم کے ملک میں، غیر قوم کی حکومت میں لا کے ایک دوسرے لوگوں کو داخل کر دیا جو شدید ترین دشمن ہیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ سب سے بڑا دشمن یہودی ہے مسلمانوں کا۔اور یہودیوں کو ایسے مقام پر لے آنا یہ ایک بڑے بھاری ابتلاء کی بات ہے اور بڑی بھاری مصیبت یہ ہے کہ ان کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں میں چھہتی نہیں پید اہو رہی۔مصر میں ابن سعود ہے، شام ہے ، لبنان ہے، اُردن ہے ، عراق ہے یہ چھ مسلمان حکومتیں ہیں لیکن کسی موقع پر بھی یہ اکٹھی ہو کر نہیں لڑ سکیں یہودیوں سے۔ایک وفد مصر سے آیا اُس میں ایک تو ہائیکورٹ کا جج تھا اور ایک جو انجمن اخوان ہے اُس کا نائب صدر تھا یہ لاہور میں مجھے ملنے آئے تو باتیں ہوئیں۔میں نے کہا قصور تو آپ لوگوں کا ہے۔ہمارا بھی قصور ہے کہ ہم آپ کی مدد پوری نہیں کر سکے اور نہیں کرتے لیکن آپ کا بہت سا قصور ہے۔کہنے لگے کیا؟ میں نے کہا آپ لوگ اُن کا مقابلہ کے لئے کیا کر رہے ہیں؟ کہنے لگے ہم سارے ملکوں نے تیاری کی ہوئی ہے۔ہر ملک نے