انوارالعلوم (جلد 24) — Page 138
انوار العلوم جلد 24 138 مر مرے بنانے ہیں۔سٹو بنانے ہیں اس قسم کی چیزیں بنا کر بچوں کو دیں۔پھر ہمسایہ میں کہہ دیا کہ بھئی! تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو ستو ہم سے خرید لینا اور وہ ہم نے خدا کے نام پر دینے ہیں تو اس طرز پر کام کی عادت ڈالی جائے۔علاوہ اس چندہ کے جو اُن کو گھر کی آمد سے خاوند کی طرف سے ملتا ہے یا باپ کی طرف سے ملتا ہے کچھ نہ کچھ چندہ چاہے وہ کتنا ہی قلیل شروع میں ہو ، چاہے سال میں پیسے ہی دے لیکن اپنے ہاتھ کی محنت۔کیا ہوا وہ دیں۔چاہے وہ کسی نواب کی بیٹی ہو، چاہے وہ کسی رئیس کی بیٹی ہو چاہے وہ کسی ڈاکٹر کی بیٹی ہو ، چاہے کسی بیر سٹر کی بیٹی ہو چاہے، کسی بڑے سرکاری افسر کی بیٹی ہو ہاتھ کی محنت کی کمائی چاہے چکی پیس کے وہ کہے کہ جی! میں نے سیر چکی پیسی تھی اپنے ہمسایہ کی۔لو میں یہ آنہ دیتی ہوں نتیجہ اِس کا یہ ہو گا کہ کام کی عادت بھی ان میں پیدا ہو جائے کی اور یہ جو غریب امیر کا امتیاز ہے یہ بھی کم ہو جائے گا۔میری پہلی تقریر 1934ء میں جو ہوئی ہے اُس میں میں نے یہ مضمون رکھا ہوا تھا لیکن اب اس پہلے دور کے ختم ہونے کے اوپر میں آج پھر اس کو لیتا ہوں کہ اس چیز کو ہم انشاء اللہ تعالیٰ جماعت میں رائج کریں گے اور سب سے پہلا حق عورتوں کا ہے کہ وہ اس کو شروع کریں۔ربوہ کی زمین اب میں مردوں کو مخاطب ہو کے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ربوہ میں 325 کنال کے قریب زمین باقی ہے۔340 کنال انہوں نے لکھی ہے لیکن انجمن زور دے رہی ہے کہ کچھ زمین اس کو الگ کر دی جائے تا کہ یہ لنگر وغیرہ جو بنتے ہیں ان کے لئے مختلف محلوں میں وہ محفوظ رہے۔اس جگہ پر وہ پکی بیر کیں بنالیں گے تاکہ آئندہ بارش وغیرہ میں وہ کام خراب نہ ہوا کرے۔اس کے لئے پندرہ کنال۔وہ تو چالیس مانگ رہے تھے لیکن میرے نزدیک یہ غلط ہے چالیس بہت زیادہ ہے۔یہاں کی زمین کی قیمت کے متعلق پچھلے سال ہم نے تین ہزار روپیہ کنال کا اعلان کیا تھا اور بڑی کثرت سے لوگوں کی درخواستیں آگئی تھیں مگر پھر مجھے جب یہ پتہ لگا ( یعنی کیا تھا کمیٹی ربوہ نے۔مجھے پتہ لگا تو میں نے کہا اتنی قیمتیں میں بڑھانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔