انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 118

انوار العلوم جلد 24 118 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1953ء ہوتا جائے گا جیسے وہ شخص جس نے ہلکا بوجھ اٹھایا ہوا ہو وہ تیز تیز چلتا ہے اور جس نے زیادہ بوجھ اٹھایا ہوا ہو وہ آہستہ آہستہ چلتا ہے اسی طرح جس کے دنیا سے زیادہ تعلقات ہوتے ہیں وہ بو جھل ہو جاتا ہے فرشتہ اسے تھوڑی دور تک تو اٹھا کر لے جاسکتا ہے لیکن زیادہ دور تک نہیں لے جاسکتا۔پس اپنے دل کو اس طرح صاف کرو کہ تمہارے دنیا سے تعلقات بہت تھوڑے رہ جائیں کیونکہ جس کا وجود بہت ہلکا ہو فرشتے اسے بہت اونچالے جاتے ہیں غرض زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کی رغبت اور محبت ان دنوں میں پیدا کرنی چاہئے اور اپنے دلوں کو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف مائل کرنا چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ اس کی برکات حاصل ہوں۔آج رات کو بارش کی وجہ سے کچھ تندوروں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور کچھ مہمانوں کو بھی۔بہر حال مقامی طور پر جو کچھ ہو سکا وہ کیا گیا۔میں سمجھتا ہوں کہ در حقیقت یہ ساری باتیں مومن کے لئے ایک کھیل کے طور پر ہوتی ہیں۔جیسے کرکٹ اور ہاکی کھیلتے وقت لڑکے گرتے ہیں اور انہیں چوٹ آتی ہے تو بجائے رونے کے وہ ہنستے ہیں اسی طرح دینی خدمات میں جو تکلیفیں ہوتی ہیں وہ بھی دینی خدمات کا ہی حصہ ہوتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے موقع پر تشریف لے گئے تو چونکہ وہ جنگل تھا اس لئے صحابہ کو تکلیف ہوئی۔ان کے پاس خیمے بھی نہیں تھے۔پھر رات کو بارش ہو گئی جس سے صحابہ گھبرا گئے۔صبح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کا کتنا فضل ہے کہ اس نے آج رات ہم پر اپنی رحمت نازل کی۔اس پر سب کے دل کھل گئے۔چنانچہ جنگ کے موقع پر وہ بارش واقع میں رحمت ثابت ہوئی کیونکہ مسلمانوں کے قدم ریتلے میدان میں جم گئے اور کفار کے قدم چکنی مٹی پر پھسلنے لگ گئے۔پس یہ تکلیفیں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں بلکہ میں تو سمجھتا ہوں اس بارش کا اس لحاظ سے فائدہ ہو گیا کہ یہاں ربوہ میں مٹی بہت اڑا کرتی ہے جس کی وجہ سے میرا اگلا ان دنوں میں خصوصیت کے ساتھ خراب ہو جایا کرتا ہے۔لاہور تک تو گلا ٹھیک رہا مگر یہاں یہ حال ہے کہ پچھلے ڈیڑھ مہینہ سے میرے گلے سے اتنا بلغم نکلا ہے کہ مجھے حیرت ہوتی تھی۔