انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 84

انوار العلوم جلد 24 84 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی اسے اس شہر کی حکومت کا حقدار نہیں بنا دیتی۔۔۔۔۔تھر میں جو ترکوں سے لے کر یونان کو دیا گیا ہے۔اس کا سبب بھی معلوم نہیں ہوتا۔۔۔۔۔غرض میرے نزدیک اس معاہدہ کی کئی شرائط میں حقوق کا اتلاف ہوا ہے اس لئے جس قدر جلد یورپ اس میں تبدیلی کرے اسی قدر یہ بات اس کی شہرت اور اس کے اچھے نام کے قیام کا موجب ہو گی“۔139 حجاز کی آزادی کے متعلق اسی طرح جب انگریزوں نے حجاز کی آزادی میں روکیں ڈالنے کی کوشش کی تو اس وقت بھی امام جماعت احمدیہ کا مطالبہ جماعت احمدیہ نے اس کے خلاف آواز بلند کی چنانچہ 23 جون 1921ء کو شملہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند کو جو ایڈریس دیا گیا اس میں حجاز کی آزادی کا مسئلہ خاص طور پر پیش کیا گیا۔اس ایڈریس کے بعض فقرات یہ ہیں:- ”ہمارے نزدیک اس سے بھی زیادہ یہ سوال اہم ہے کہ حجاز کی آزادی میں کسی قسم کا خلل نہیں آنا چاہیئے۔جب حجاز کی آزادی کا سوال پیدا ہوا تو اس وقت یہی سوال ہر ایک شخص کے دل میں کھٹک رہا تھا کہ کیا ترکوں سے اس ملک کو آزاد کرنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ بوجہ بنجر علاقہ ہونے کے وہاں کی آمد کم ہو گی اور حکومت کے چلانے کے لئے ان کو غیر اقوام سے مدد لینی پڑے گی اور اس طرح کوئی یورپین حکومت اس کو مدد دے کر اس کو اپنے حلقہ اثر میں لے آئے گی۔نئی خبریں اس شبہ کو بہت تقویت دینے لگی ہیں۔ریوٹر 140 نے پچھلے دنوں مسٹر چرچل جو وزیر نو آبادی ہیں ان کی ایک سکیم کا ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر حجاز گور نمنٹ اپنے بیرونی تعلقات کو برٹش گورنمنٹ کی نگرانی میں دے دے اور