انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xi of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page xi

انوار العلوم جلد 24 تعارف کتب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تعارف کتب انوار العلوم جلد 24 سید نا حضرت مصلح موعود کی 13 کتب و تحریرات پر مشتمل ہے جو نومبر 1953ء تا 27 دسمبر 1954ء کے دور پر پر مشتمل ہے۔ ان کتب و تحریرات کا مختصر تعارف ذیل میں دیا جا رہا ہے۔ (1) مولانا مودودی کے رسالہ " قادیانی مسئلہ " کا جواب وو 66 قادیانی مسئلہ “ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ایک مضمون ہے جو انہوں نے عین فسادات پنجاب کے دوران مارچ 1953ء کو ایک رسالہ کی شکل میں لاکھوں کی تعداد میں شائع کر کے تقسیم کیا۔ اس رسالہ میں مولانا نے احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کے علاوہ 15 کے قریب ناجائز مطالبات کئے۔ تحقیقاتی عدالت میں یہ رسالہ بھی زیر بحث آیا اور مودودی صاحب اور ان کے ساتھیوں نے اس کی بنیاد پر تحریری و تقریری بیانات عدالت میں داخل کروائے۔ یہ کتابچہ احمدیت کے خلاف نفرت و حقارت میں اضافہ کا موجب ہوا تو سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے نومبر 1953ء میں اس کا جواب دینے کے لئے قلم اٹھایا اور بڑے ہی جلالی مگر عارفانہ انداز میں مودودی صاحب کے بیان کردہ 15 اعتراضات کا ایک ایک کر کے مُسکت و مدلل جواب دیا۔ جن میں مسئلہ ختم نبوت، مسئلہ کفر و اسلام، مسئله جنازه، مسئلہ جہاد کے علاوہ اور کئی اہم مذہبی اور سیاسی مسائل پر جامع و سیر حاصل بحث فرمائی اور بڑے دوٹوک الفاظ میں مودودی صاحب، ان کی جماعت اور دیگر علماء کو سمجھایا کہ کسی مسلمان فرقہ کو غیر مسلم یا اقلیت قرار دینے کا دروازہ نہ کھولیں۔ یہ آپریشن احمدیت پر ہی ختم نہیں ہو گا بلکہ احمدیت پر تجربہ کر لینے والا ڈاکٹر بعد میں دوسرے فرقوں پر اس نسخہ کو آزمائے گا۔ اگر حضرت مصلح موعود کی اس اہم تجویز پر عمل ہو گیا ہوتا تو آج پاکستان جن گوناگوں مشکلات کا شکار ہے اور فرقوں کو کافر قرار دینے کی فیکٹریاں لگ گئی ہیں ایسا ہر گز