انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 50

انوار العلوم جلد 24 50 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی ہر عضو عریاں تھا اور لوگ شور مچا رہے تھے کہ اس نجس لاش کو ہمارے قبرستان سے باہر پھینک دو۔جائے وقوعہ پر مرحوم کے پسماندگان میں سے کوئی بھی پرسانِ حال نہ تھا۔لفٹیننٹ کرنل محمد ضمیر کی خوشامدانہ التجا پر نواب صاحب نے فوج اور پولیس کو صورت حال پر قابو پانے کے لئے موقع پر بھیجا۔کو توال شہر خان عبد الرحمن خان اور سپرنٹنڈنٹ پولیس خان بہادر اکرام حسین نے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر لاش دوبارہ دفن کرانے پر مجبور کیا لیکن اس جابرانہ حکم کی خبر شہر کے ہر کونہ میں بجلی کی طرح پہنچ گئی اور غازیانِ اسلام مسلح ہو کر مذہب و دین کی حفاظت کے لئے جائے وقوعہ پر آگئے۔حکومت چونکہ ایک مقتدر آدمی کی ذاتی عزت کی حفاظت کے لئے عوام کا قتل وغارت گوارا نہیں کر سکتی تھی اس لئے پولیس نے لاش کو کفن میں لپیٹ کر خفیہ طور پر شہر سے باہر بھنگیوں کے قبرستان میں دفنا دیا۔چونکہ مسلمان بہت مشتعل اور مضطرب تھے اس لئے اُنہوں نے بھنگیوں کو اس بات کی اطلاع کر دی اور بھنگیوں نے بھی اس متعفن لاش کا وہی حشر کیا جو پہلے ہو چکا تھا۔پولیس نے یہاں بھی دست درازی کرنی چاہی لیکن بھنگیوں نے شہر بھر میں ہڑتال کر دینے کی دھمکی دی۔بالآخر سپرنٹنڈنٹ پولیس اور کوتوال شہر کی بروقت مداخلت سے لاش کو دریائے کوسی کے ویران میدان میں دفن کر دینے کی ہدایات کی گئیں۔سپاہی جو لاش کے تعفن اور بوجھ سے پریشان ہو چکے تھے کچھ دور تک لاش کو اُٹھا کر لے جاسکے اور شام ہو جانے کے باعث اسے دریائے کوسی کے کنارے صرف ریت کے نیچے چھپا کر واپس آگئے۔دوسرے دن صبح کو شہر میں یہ خبر اُڑ گئی کہ قاسم علی کی لاش کو گیدڑوں نے باہر نکال کر گوشت کھالیا ہے اور ڈھانچ باہر پڑا ہے۔یہ سُن کر شہر کے ہزاروں لوگ اس منظر کو دیکھنے کے