انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 583

انوار العلوم جلد 24 583 سال 1954ء کے اہم واقعات اس کے اخلاق اچھے ہوں، اس کی قربانی زیادہ ہو، اس کی محنت زیادہ ہو تو لازمی طور پر لوگ دس رستے چھوڑ کر اس کے پاس پہنچیں گے۔اسی طرح اگر ہمارا بیرسٹر اور ہمارا وکیل اچھا ہو گا تو لوگ لازمی طور پر اس کے پاس جائیں گے۔مصیبت کے وقت لوگ ساری دشمنیاں بھول جاتے ہیں۔ہمارے ایک وکیل دوست یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ایک مقدمہ میں ہمارا ایک چوٹی کا مخالف ان کے پاس مشورہ کرنے کے لئے آتا تھا اور وہ سمجھتا تھا کہ یہی اچھے وکیل ہیں۔پہلے اس نے اپنے دوستوں کو کہا بھی کہ ان کے پاس کیوں جاتے ہو مجھے شرمندہ کرو گے لیکن انہوں نے کہا نہیں یہی وکیل اچھے ہیں چنانچہ وہ آپ بھی ان کے پاس آتا رہا اور مشورہ کر تا رہا۔تو اگر تم اپنے اخلاق کی درستی کے لئے خاص طور پر توجہ کرو گے تو یقینا تمہاری دینی اور دنیوی حالت اچھی ہو جائے گی۔لیکن اگر یہ نہیں کرو گے تو تم دنیا کے مقابلہ میں جیت نہیں سکتے۔تم ایک نے چار چار ہزار کا مقابلہ کرنا ہے اور پھر مقابلہ بھی زبان سے کرنا ہے، دلیل سے کرنا ہے۔اور زبان اور دلیل کا مقابلہ اور بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔لٹھ کا تو پھر بھی مقابلہ ہو جاتا ہے کیونکہ لٹھ والا کبھی بھاگ کے بھی جان بچالے گا لیکن دلیل والا تو بھاگ سکتا ہی نہیں۔اس کو تو بہر حال ٹھہر ناہی پڑے گا۔اب دنیا کی آبادی دو ارب سے زیادہ ہے اور دو ارب آبادی میں اگر تم دو لاکھ ہو تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ دنیا کے قریباً بارہ ہزار آدمی کے مقابلہ میں تمہارا ایک آدمی ہے اور بارہ ہزار کے مقابلہ میں تم ایک نے کس طرح کام کرنا ہے اگر تم قربانی نہیں کرتے ، اگر تم جان نہیں مارتے۔لیکن اگر تم جان مار کے کام کرناشروع کر دو تو یقیناً سمجھو کہ خدا تعالیٰ کے سامان جو اس نے دنیا میں پیدا کئے ہیں ان سے کام لے کر زیادہ سے زیادہ پیداوار ہو سکتی ہے۔مثلاً قرآن شریف سے پتہ لگتا ہے کہ چار سو من گندم تک ایک ایکڑ میں پیدا ہو سکتی ہے۔اگر فرض کرو تم قرآن کی اس تعلیم کو پورا کر لو اور چار سو من تمہاری گندم ہو جائے تو سارے ملک کے زمینداروں سے تم بڑے ہو جاتے ہو یا نہیں ہو جاتے ؟ اُن کی اوسط ہے دس من۔کسی کی تھوڑی ہے اور کسی کی بہت۔لیکن تمہاری اوسط