انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 572

انوار العلوم جلد 24 572 سال 1954ء کے اہم واقعات ہو کہ اخلاق فاضلہ کا کوئی لفظ ہی قرآن کریم میں نہیں ہے تم نے اپنے پاس سے بنایا ہے۔پر کچھ نہ کچھ تو قرآن نے کہا ہے یا نہیں کہا۔یہ تو تم مانو گے۔صدق کے معنے یا سداد کے معنے جو میں کرتا ہوں یا کوئی اور کرتا ہے تم کہہ دو یہ غلط ہیں ہم تو اس کو نہیں مانتے پر آخر صدق کا لفظ قرآن کریم میں آیا ہے اور کوئی معنے اس کے کرنے پڑیں گے۔یہ تو نہیں کہنا پڑے گا کہ یونہی بے معنے لفظ بول دیا گیا ہے سداد کا لفظ قرآن کریم میں آیا ہے کوئی تو اس کے معنے کرنے پڑیں گے۔تو میں کہتا ہوں جو بھی معنے تم کرتے ہو تم یہ بتا دو کہ تم نے جو معنے کیے ہیں اس پر عمل شروع کر دیا ہے تو بس میری تسلی ہو جائے گی۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم وہ معنے کرو جو میں کہتا ہوں۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم وہ معنے کر وجو غزالی کرتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم وہ معنے کر وجو شاہ ولی اللہ کرتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم وہ معنے کر وجو محمد مکی کرتے ہیں۔ان سب کو چھوڑ دو تم وہ معنے کرو جو تم کرتے ہو اور پھر تم بتا دو کہ اس میں سے اتنی پرسنٹیج (PERCENTAGE) اخلاق پر ہم قائم ہو گئے ہیں۔جب تم یہ بتا دو گے تو میرے لئے اتنا ہی جواب کافی ہو گا میں پھر مزید بحث نہیں کرونگا۔لیکن اگر تم نہ میرے معنے سنو، نہ اپنے معنے سنو، نہ غزالی کے معنے سنو، نہ شاہ ولی اللہ کے سنو، نہ محمد مکی کے سنو، ان میں سے کسی کے بھی نہ سنو اور اس کے بعد یہ بھی کہو کہ ہم قرآن پر عمل کرنا چاہتے ہیں یا کرتے ہیں یا کوشش کرتے ہیں تو یہ فضول اور بے معنے بات ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اخلاق فاضلہ کے بغیر نہ دین درست ہو سکتا ہے اور نہ دنیا ن ہو سکتی ہے۔یورپ اور امریکہ کی ترقی نہ تو سائنس کی وجہ سے ہوئی ہے، نہ گولہ درست ہو بارود کی وجہ سے ہوئی بلکہ اس کی ترقی محض اخلاق کی وجہ سے ہوئی ہے۔میں نے ابھی ایک واقعہ سنایا تھا کہ ایک نوجوان ڈاکٹر یورپ سے آیا اور اس نے آ کے بڑے ڈرتے ڈرتے اور شرماتے شرماتے مجھ سے پوچھا کہ ایک بات میں نے وہاں عجیب دیکھی ہے۔میں نے پوچھا کیا دیکھی ہے ؟ اس نے کہا یہ دیکھی ہے کہ ان کے اخلاق ہم سے اچھے ہیں۔اُس کا مطلب یہ تھا کہ ہمیں اسلام سکھایا جاتا ہے، مسلمان کہا جاتا ہے لیکن اخلاق تو اُن کے اچھے ہیں اور یہ واقع ہے۔انگریزی عدالتوں میں چلے جاؤ