انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 566

انوار العلوم جلد 24 566 سال 1954ء کے اہم واقعات معنے یہ ہیں کہ اے احمدی، اے بانی سلسلہ اور اس کے اتباع ! تم جب مکان بناؤ گے تو میرے لئے بناؤ گے اس لئے میں تم پر اعتبار کرتے ہوئے کہتا ہوں اپنا مکان بڑھاؤ۔مطلب یہ ہے کہ میرا بڑھاؤ۔تو رسغ مكانك میں در حقیقت خدا تعالیٰ نے حسن ظنی سے کام لیا ہے اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ تمہارے مکانوں کے ساتھ خدا کا مکان بھی بڑھے۔پس خدا کا مکان بڑھاتے چلے جاؤ تمہیں خدا آپ بڑھا تا چلا جائے گا۔میں نے پچھلے سال کہا تھا کہ ہر تعلیم یافتہ آدمی کسی ایک کو اور پڑھا دے۔اس کے متعلق بعض لوگوں کے خطوط آئے تو بڑی خوشی ہوئی۔بعض نے بتایا کہ ہم پڑھارہے ہیں، بعض عورتوں نے خصوصاً یہ بتایا کہ آٹھ آٹھ ، دس دس طالب علموں کو ہم نے پڑھانا شروع کیا ہے لیکن افسوس ہے کہ یہ تحریک ایک عرصہ تک گئی پھر جس طرح آگ بجھ جاتی ہے اسی طرح بجھ گئی حالانکہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی کر ہی نہیں سکتی۔اس لئے میں پھر آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ تعلیم کی طرف توجہ کریں اور تعلیم کی طرف توجہ کر کے اپنی جماعت کے مردوں اور عورتوں کا معیار بڑھائیں۔جن لوگوں کو یہ خیال ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مدرسے ہوں یا جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں کوئی مدرسہ کھل جائے انہوں نے کبھی بھی غیر قوموں کے تعلیمی معیار نہیں دیکھے۔دنیا میں جتنی قوموں نے ترقی کی ہے انہوں نے پکے مکانوں میں کبھی نہیں کی یورپ میں انگلستان تعلیم میں سب سے بڑھ کر ہے اگر تم میں سے کسی نے بھی ان کی تعلیمی ترقی کی رپورٹ پڑھی ہو تو تم کو پتہ لگ جائے گا کہ کوئی بڑی کو ٹھیاں نہیں تھیں، کوئی بڑے مدر سے نہیں تھے بہت معمولی معمولی جگہوں پر ان کے مدرسے تھے اور انہی میں انہوں نے ترقی کر کے یونیورسٹیاں بنالیں۔نہ شروع میں ان کو یہ احساس تھا کہ کوئی بہت بڑے بڑے علوم انہوں نے سیکھنے ہیں۔وہ ان کو اپنی زبان سکھاتے تھے اور اس کے بعد ساری چیزیں اس کے لئے آسان ہو جاتی تھیں۔دیکھو اگر سارے کے سارے لوگ مثلاً انگریزی پڑھیں تو آٹھ کروڑ کو انگریزی پڑھانا کتنا مشکل کام ہے۔لیکن اگر ہیں آدمی انگریزی پڑھے ہوئے مقرر کر دیئے جائیں کہ وہ ان علوم پر جن میں اردو میں لٹریچر نہیں ہے خود