انوارالعلوم (جلد 24) — Page 546
انوار العلوم جلد 24 546 سال 1954ء کے اہم واقعات ایک شہادت ہوتے ہیں کہ دیکھو یہ خون سے لتھڑے ہوئے ہیں اور ان سے پتہ لگ جاتا ہے کہ زخم کس حد تک تھا مگر ہم سے پولیس نے پہلے خود کپڑے مانگے لیکن جب پیشی کا وقت آیا تو باوجود اُن کو کہلا کے بھیجنے کے کہ کپڑے منگوالیں اُنہوں نے نہیں منگوائے (گوانہوں نے اب یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ کپڑے اُس وقت پیش ہوتے ہیں جب ان کے اندر سے زخم لگے۔میں تو قانون دان نہیں مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ ہے تو پہلے ان کا آدمی کپڑے مانگنے کیوں آیا تھا) اس طرح وہ چادر جس میں کہا جاتا ہے کہ ملزم چاقو چھپا کر بیٹھا تھا وہ بھی پولیس نے پیش نہیں کی۔یہ قانون ہے (شاید بعض لوگ نہیں جانتے ہوں گے) کہ ایسے فوجداری مقدمات میں گورنمنٹ مدعی ہوتی ہے خود مضروب کا کوئی حق نہیں ہؤا کر تا کہ وہ بیچ میں بولے یا بلو ا سکے۔بہر حال وہ چادر بھی نہیں پیش کی گئی جس کی وجہ سے مجسٹریٹ نے احمدی گواہوں پر شبہ کا اظہار کیا اور لکھا کہ اگر کوئی چادر تھی تو وہ پیش کیوں نہیں کی گئی حالانکہ چادر پیش کرنانہ کرنا پولیس کا کام تھا ہمارے اختیار میں یہ بات نہ اس دوران میں ڈاکٹر کئی دفعہ آتے رہے۔انہی دنوں اس حملہ کے اثر سے یہ بھی ہوا کہ مجھے عارضی طور پر ذیا بیطیس کی شکایت ہو گئی۔ڈاکٹر پیشاب ٹیسٹ کرتے رہتے تھے تا کہ کوئی خرابی ہو تو پتہ لگ جائے ایک دن جو پیشاب ٹیسٹ کرایا تو معلوم ہوا کہ اس کے اندر شکر آتی ہے۔مگر ڈاکٹروں نے کہا ابھی آٹھ دس دن تک آپ نہ گھبر ائیں۔اگر تو یہ تکلیف زخم کی وجہ سے ہوئی ہے اور ایسا ہو جاتا ہے تو آٹھ دس دن کے بعد ہٹ جائے گی اور اگر زخم کی وجہ سے نہ ہوئی تو ہم علاج کا فکر کریں گے اتنی دیر تک علاج کے فکر کی ضرورت نہیں۔چنانچہ اس بارہ دن کے بعد یہ تکلیف خدا تعالیٰ کے فضل سے ہٹ گئی اور پتہ لگ گیا کہ یہ صرف زخم کی شدت کی وجہ سے تھی خود اصل بیماری نہیں تھی۔اس کے بعد انہوں نے مجھے کہا کہ یہ زخم کی تکلیف آپ کو چھ مہینے تک چلے گی پہلے تین مہینوں میں تو آپ کو زخم کا آرام معلوم ہونا شروع ہو گا لیکن تین مہینے کے بعد یہ تکلیف بڑھنی شروع ہو جائے گی اور وہ نرو(NERVE) جو کٹ گیا ہے وہ اور کسی جگہ پر اپنی جگہ بنائے گا