انوارالعلوم (جلد 24) — Page 23
انوار العلوم جلد 24 23 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کہ آجکل کے مسلمان جو تعریف نبی کی سمجھتے ہیں اس کے لحاظ سے حضرت مرزا صاحب ہرگز نبی نہیں اُن کو اسلام کی تعریف سے کیا غرض ہے اُن کی اپنی تعریف کی رُو سے حضرت مرزا صاحب نبی نہیں ہیں اور اس میں احمدی بھی ان سے متفق ہیں اور اسلام کی بیان کردہ اقسامِ نبوت میں سے ایک قسم جس کے کھلا رہنے کا ثبوت قرآن و حدیث سے ملتا ہے اگر اس کے کھلا رہنے کا احمدی دعوی کریں تو ان پر کیا اعتراض ہے ؟ کیا اسلام یہ نہیں کہتا کہ خدا تعالیٰ بعض لوگوں کو نبی کے نام سے پکار لیتا ہے؟ (رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے کہ اگر میرابیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی ہو تا۔32 ) اور کیا اسلام یہ نہیں کہتا کہ اولیاء امت پر خدا تعالیٰ کا الہام ہمیشہ اتر تارہے گا۔(إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ اَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ أَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ التي كُنتُم تُوعَدُونَ (33) اور کیا حدیث یہ نہیں کہتی کہ کوئی شخص اپنے نفس کو اس بات سے محروم نہ سمجھے کہ کسی دن اللہ تعالیٰ کے محکم کو وہ اپنے نفس میں محسوس کرے لیکن اس کے بعد وہ اس محکم کو لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے۔اللہ تعالیٰ اس سے ایک دن پوچھے گا کہ کیوں تُو نے میری بات لوگوں کو نہیں بتائی ؟ اس پر وہ شخص کہے گا کہ اے خدا! میں لوگوں سے ڈرتا تھا کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا۔34 اسی طرح کیا اولیاء اسلام میں سے مولانا روم یہ نہیں فرماتے کہ چوں بدادی دست خود در دست پیر بہر حکمت کو علیم است و خبیر کو نبی وقت خویش است اے مرید زانکه او نور نبی آمد پدید! 35 یعنی جب تو اپنا ہاتھ اپنے پیر کے ہاتھ میں دیتا ہے اس غرض سے کہ وہ دین اسلام کو خوب جاننے والا اور واقف ہے اور اس لئے کہ اے مرید ! وہ اپنے وقت کا نبی ہے۔اس لئے نبی ہے کہ نبی کا نور اس کے ذریعہ سے ظاہر ہو گیا۔