انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 543

انوار العلوم جلد 24 543 سال 1954ء کے اہم واقعات اگر اُس وقت وہ شخص دوبارہ حملہ کرتا تو میں وہاں سے ہل بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ اس دھتے میں ایک دیوار میری لاتوں کے درمیان تھی اور ایک ٹانگ نیچے اتری ہوئی تھی اور ایک ٹانگ سیڑھیوں کے اوپر تھی۔خیر اتنے میں کچھ لوگ اندر سے باہر نکل آئے اور انہوں نے کھینچ کر مجھے باہر کیا مگر میں ابھی تک اس احساس کے نیچے تھا کہ شاید کوئی پتھر گرا ہے یا دیوار گری ہے یا خبر نہیں کیا ہوا ہے مگر یہ مجھے محسوس ہو تا تھا کہ ہاتھ میں نے چوٹ کی جگہ پر رکھا ہوا ہے یہ مجھے نہیں پتہ لگتا تھا کہ میں نے ہاتھ کیوں رکھا ہوا ہے۔اتنے میں اندر سے دوسرے دروازے میں سے کچھ نمازی نکل کے باہر آگئے اور وہ میرے سامنے کھڑے ہو گئے۔ابھی تک کوئی چیز مجھے پوری نظر نہیں آتی تھی ان کے چہرے بھی دھند لکے سے نظر آرہے تھے بہر حال مولوی ابو العطاء صاحب مجھے نظر آئے تو میں نے کہا مولوی صاحب ہوا کیا ؟ یعنی میں ابھی یہ سمجھ ہی نہیں رہا تھا کہ مجھ پر حملہ ہوا ہے بلکہ میں یہ سمجھتا تھا کہ کوئی پتھر گرا ہے یاز لزلہ آگیا ہے یا معلوم نہیں کیا بات ہوئی ہے اور میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ کیا ہوا ہے یہ دیوار اتفاقا گر گئی ہے یاز لزلہ آیا ہے یا کیا ہوا ہے۔اس پر انہوں نے اور بعض دوسرے ساتھیوں نے کہا کہ آپ پر کسی شخص نے حملہ کیا ہے۔میں نے کہا اچھا مجھ پر حملہ کیا گیا ہے ؟ اُس وقت مجھے یہ احساس ہوا کہ شاید میں نے اپنا ہاتھ زخم پر رکھا ہوا ہے چنانچہ میں نے جب ہاتھ دیکھا تو سارا ہاتھ خون سے بھرا ہوا تھا۔میں نے کہا اوہو! اس میں سے تو خون نکل رہا ہے۔انہوں نے کہا اپنے کپڑوں کو دیکھئے میں نے کپڑے دیکھے تو کوٹ اور صدری اور نیچے گرتا اور پاجامہ یہ سارے کے سارے خون سے بھرے ہوئے تھے اور زمین پر بھی اچھا خاصا تالاب بنا ہوا تھا جیسے خون بہا ہوتا ہے۔جب مجھ پہ حقیقت کھلی تو میں نے کہا مجھے سہارا دے کر گھر پہنچاؤ چنانچہ وہ سہارا دے کر مجھے گھر لے آئے۔میں نے کہا ڈاکٹر کی طرف آدمی بھیجو تا کہ وہ آئیں اور ٹانکہ وغیرہ لگائیں خون بہتا چلا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کی طرف آدمی دوڑ گیا ہے بہر حال میں وہاں آ کے بیٹھا رہا تھوڑی دیر میں ڈاکٹر پہنچ گئے۔جن میں منور احمد میرا لڑکا بھی تھا۔قدرتی طور پر اپنی مذہبی محبت بھی ہوتی ہے اور پھر وہ میرا بیٹا بھی تھا بہر حال