انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 531

انوار العلوم جلد 24 531 سال 1954ء کے اہم واقعات کرتے لیکن اسلام کا حکم یہی ہے کہ پردہ کیا جائے مثلاً ہم نے یورپ اور امریکہ کی نو مسلم عورتوں کو یہی تعلیم دینی شروع کی ہے کہ تم اتنا گلا ڈھانک لیا کرو، سر ڈھانک لیا کرو اور ایک تم ہم سے وعدہ کر لو کہ جب کہیں پر دے کا ذکر ہو تو تم یہ کہو کہ حکم تو وہی ہے پر میں کر نہیں سکتی۔اس سے کم سے کم تمہاری اولاد میں احساس پیدا ہو گا کہ ہم اور زیادہ کر لیں۔یہاں ہمارے انڈونیشیا کے دوست بیٹھے ہیں یہ وہاں کے وائس پریذیڈنٹ ہیں۔ان میں پردہ بالکل نہیں اور یہ بات ہمارے لئے بعض دفعہ بڑی عجیب ہو جاتی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے شاید یہ نئی چیز ایجاد کی ہے حالانکہ ان میں نسلاً بعد نسل کبھی پردہ ی نہیں۔کوئی شخص ہمارے مبلغ کا مخالف تھا اس نے کیا کیا ایک تصویر مجھے بھجوادی کہ آپ کے مبلغ یہ کام کرتے ہیں۔اس میں ہمارے مبلغ صاحب بیٹھے ہوئے بالکل یوں معلوم ہوتے تھے جیسے کرشن جی بیٹھے ہیں ارد گرد ساری عورتیں بے پر د پھر رہی تھیں کوئی ادھر کوئی درخت پر چڑھی ہوئی تھی، کوئی دریا میں کو دی ہوئی ہے۔میں اس بات کو جانتا تھا کہ وہاں تو پر وہ ہی نہیں چنانچہ میں نے اس کو لکھا کہ اس کا کیا قصور ہے۔جب یہ مبلغ پیدا بھی نہیں ہوا تھا تب سے وہاں کی عورتیں یہ کام کر رہی ہیں اس میں اس مبلغ کا کیا تھاہی قصور ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ان میں بالکل یورپ کی طرح رواج ہے اور خواہ ہمارا مبلغ ہو یا کوئی ہو وہ ہر ایک کے سامنے اسی طرح کرتی ہیں۔اب بعض عورتیں وہاں ایسی گئی ہیں جو پر دہ کرتی ہیں مثلاً میری بہو گئی ہے ، حافظ قدرت اللہ کی بیوی گئی ہے یہ دونوں پر دہ کرتی ہیں۔پیچھے ان کے رئیس المبلغین یہاں آئے تھے اور ان کی بیوی بے پر د تھی۔انہوں نے کہا وہاں کوئی پردہ کرتا ہی نہیں لیکن یہاں کی عورتوں کو دیکھ کر اب وہاں بُرقع شروع ہو گیا ہے اور چند عورتوں نے پہنا ہے لیکن یہ ان کی مرضی پر ہے ہم ان پر سختی نہیں کرتے۔یہاں شاہ صاحب کی بیوی نے بُرقع بنو الیا تو کہنے لگی کہ میں برقع پہن کر جاؤں گی تو سہی پر وہاں مجھے بڑی شرم محسوس ہو گی یعنی جس طرح یہاں کی عورتوں کو بُرقع اتارنے میں شرم محسوس ہوتی ہے وہاں کی عورتوں کو پہنے میں محسوس ہوتی ہے۔اس سے