انوارالعلوم (جلد 24) — Page 530
انوار العلوم جلد 24 530۔سال 1954ء کے اہم واقعات پیدا ہو تا ہے جب وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی بڑا عہدہ ملے اور اس وجہ سے انہوں نے پہلے سے ہی اپنا ایک بڑا مقام قائم کیا ہوا ہوتا ہے اور جس نے پہلے سے اپنا بڑا مقام کیا ہوا ہو اگر اس کو ذراسی ٹھیس لگے تو وہ یقینا گر جائے گا۔حضرت خلیفہ اول اپنے ایک داماد کا جو اہل حدیث تھے۔ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہنے لگے انہیں اس بات کا بڑا جوش رہتا تھا کہ ذرا کسی کی غلطی دیکھی تو کھڑے ہو گئے اور اسے کہنا شروع کر دیا کہ تم جہنمی ہو ، تم کافر ہو ، تم مرتد ہو۔وہ ایک دفعہ مجلس میں آئے ہوئے تھے کہ ایک زمیندار رئیس جو ہمارا دوست تھا اور غیر احمدی تھا ہم سے ملنے کے لئے آگیا۔حضرت خلیفہ اول سرگودھا کی طرف کے تھے اور یہاں جتنے بڑے زمیندار ہوتے ہیں وہ لمبی لمبی تہبندیں باندھتے ہیں جو زمین کے ساتھ لٹکتی چلی جاتی ہیں اور وہ اسے ایک فخر کی چیز سمجھتے ہیں جیسے انگریزوں میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ فلاں کی کریز بڑی صاف ہے ان کے ہاں یہ ہوتا ہے کہ تہبند زمین پر لٹکے اور وہ جھاڑو دیتا چلا جائے جیسے ملکہ الزبتھ اوّل کی گاؤن ہوا کرتی تھی۔اگر ایسا ہو تو اس کو وہ بڑی عزت کی چیز سمجھتے ہیں۔اسی طرح وہ اپنا رُ عب جمانے کے لئے مجلس میں آرہا تھا اور اس کی تہبند زمین پر لٹکی ہوئی تھی۔ادھر یہ وہابی صاحب بیٹھے ہوئے تھے اور مسواک انہوں نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی انہوں نے مسواک لی اور اس کے پیر پر مار کر کہنے لگے "یہ جہنم میں جائے گا" کہنے لگے وہ اچھا بھلا مسلمان تھا لیکن چونکہ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور وہ اپنے آپ کو علاقہ کار کیس سمجھتا تھا۔جب اس نے کہا " جہنم میں جائے گا" تو بڑی گندی گالی دے کر کہنے لگا " تجھے کس نے بتایا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔میں کوئی مسلمان نہیں " گویا جھوٹ اس نے چھلانگ مار کر اسلام سے ہی انکار کر دیا۔تو پیار اور محبت کے ساتھ ان باتوں کا ازالہ کرو سختی کے ساتھ نہ کرو کیونکہ اگر تم سختی کرو گے تو پھر اسلام کے ساتھ جو کچھ بھی ان کی وابستگی اس وقت باقی ہے وہ بھی جاتی رہے گی۔حقیقت یہ ہے کہ یہ چیزیں اصل نہیں ہیں جڑ تو ہے محبت الہی، جڑ تو ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت۔جب یہ چیزیں قائم ہو جائیں گی تو باقی چیزیں آہستہ آہستہ آپ ہی آجائیں گی مگر یہ ضرور ہے کہ کم سے کم نیکی ان کی یہ ہے کہ وہ کہیں کہ ہم پر دہ تو نہیں۔