انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 500

انوار العلوم جلد 24 500 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1954ء کریں گے۔جب تم نے یہ وعدہ کیا تھا تم ان ذمہ داریوں سے آگاہ نہیں تھے جو تم پر عائد کی جانے والی تھیں۔تم کو نہیں پتہ تھا کہ کیا چیز تمہارے سپرد کی جارہی ہے۔اسی طرح جس طرح مدینہ کے لوگوں کو پتہ نہیں تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر میں بلانے پر وہ کتنا بڑا بھڑوں کا چھٹا چھیڑ رہے ہیں۔اس وقت تو مکہ کی رقابت میں مدینہ والوں نے کہہ دیا کہ چلئے صاحب ! مکہ والے آپ کی قدر نہیں کرتے تو ہمارے پاس چلئے۔حضرت عباس جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچاتھے اور آپ سے بہت محبت رکھتے تھے گو ظاہر میں اسلام نہیں لائے تھے وہ چونکہ ہوشیار آدمی تھے انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ دعوت تو انہوں نے دے دی ہے لیکن اس کا سنبھالنا ان کے لئے مشکل ہو جائے گا۔انہوں نے اُس وقت کہا کہ آپ لوگ ان کو لے جاتے تو ہیں لیکن آپ مکہ والوں کو جانتے نہیں، عرب کو نہیں جانتے۔سارا عرب اور سارے مکہ والے ان کے مخالف ہیں اور وہ ضرور آپ سے اس کام کا بدلہ لیں گے۔پس میں تب ان کو لے جانے کی اجازت دیتا ہوں اگر آپ لوگ یہ عہد کریں کہ اپنی جان اور اپنے مال کو قربان کر کے اس کی حفاظت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا تو چھوٹا سا قصبہ ہے سارے عرب کے ساتھ ہم کہاں لڑ سکتے ہیں۔پر یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر مدینہ پر کسی نے چڑھائی کر کے اسے نقصان پہنچانا چاہا تو ہم اپنا سب کچھ قربان کر دیں گے اور اس کی حفاظت کریں گے۔مدینہ سے باہر جانے کی ہم میں طاقت نہیں۔حضرت عباس نے کہا مجھے منظور ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان سے معاہدہ کر لیا۔پھر جو نتائج ہوئے آپ لوگ جانتے ہیں۔اس طرح جب دین اسلام کا یتیم آپ لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا اور آپ کو کہا گیا کہ اس کی نگرانی کریں اور اس کی حفاظت کریں تو آپ نے اسے قبول کیا لیکن آپ کو معلوم نہیں تھا کہ اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔اس وقت زیادہ سے زیادہ آپ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ کوئی میولوی بُرابھلا کہہ لے گا، کوئی ہمسایہ گالی دے لے گا۔آپ کی نگاہ اس طرف نہیں اٹھتی تھی کہ یہ کام کسی وقت اتنا بلند ہو جائے گا اور یہ ذمہ داری اتنی اہم ہو جائے گی کہ اس کا سنبھالنا ہمارے لئے دو بھر ہو جائے گا۔لیکن آپ نے ہمت کی اور حامی بھر لی اور کہا