انوارالعلوم (جلد 24) — Page 415
انوار العلوم جلد 24 415 تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کے جواب اور غیر اسلامی حکومت میں رہنے والے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی حکومت سے تعاون اور اس کی فرمانبرداری کریں۔مودودی صاحب اپنے بیان میں یہ لکھتے ہیں کہ احمدیوں نے ملازمتوں پر قبضہ کر لیا ہے حالانکہ انہوں نے اس کا کوئی ثبوت بہم نہیں پہنچایا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَاسَمِعَ 3 جو شخص سُنی سنائی بات کو پیش کر دیتا ہے اس کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی ثبوت کافی ہے۔یہ بات سراسر غلط ہے سو فیصد غلط ہے لیکن اگر صحیح بھی ہو تو ملازمتیں بھی پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ سے ملتی ہیں۔اور پبلک سروس کمیشن میں آج تک ایک بھی احمدی ممبر نہیں ہوا۔نہ صوبہ جاتی پبلک سروس کمیشن میں اور نہ مرکزی پبلک سروس کمیشن میں۔اگر اسلام ساری قوموں کے حقوق کی حفاظت کا حکم دیتا ہے تو جبکہ پاکستانی حکومت امتحانوں اور انٹرویو کے ذریعہ سے ملازم رکھتی ہے تو فرض کرو اگر کسی محکمہ میں احمدی اپنی تعداد سے دس یا پندرہ یا ہمیں فیصدی یا پچاس فیصدی زائد بھی ہو جاتے ہیں تو یہ اعتراض کی کونسی بات ہے۔خود پاکستان کی گورنمنٹ ایک قانون بناتی ہے اور اس قانون کے بنائے ہوئے رستہ سے اگر احمدی طلبہ سینما اور تماشوں اور تاش اور شطرنج سے اجتناب کرتے ہوئے محنت اور کوشش سے آگے نکل جاتے ہیں تو اس کو پولیٹیکل سٹنٹ بنانے اور شور مچانے کی کیا وجہ ہے؟ اور جھوٹ بول کر ایک کو سو بتا دینا صاف بتاتا ہے کہ مذہب اس کا باعث نہیں سیاست اس کا باعث ہے کیونکہ خدا کو جھوٹ کی ضرورت نہیں۔پھر مولانا مودودی صاحب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تجارت پر احمدی قابض ہو چکے ہیں، زراعت پر احمدی قابض ہو چکے ہیں، صنعت و حرفت پر احمدی قابض ہو چکے ہیں یہ بات بھی سراسر جھوٹ ہے۔ایک مذہبی جماعت کا لیڈر ہوتے ہوئے، اس قدر جھوٹ سے کام لینا ہماری عقل سے باہر ہے۔لاہور ہمارے صوبہ کا مرکز ہے اگر پولیس کو حکم دیا جائے کہ بازاروں میں سے دکانوں کی اعداد شماری کرے اور دیکھے کہ ان میں سے احمدی کتنے ہیں تو کورٹ کو معلوم ہو جائے گا کہ اس جماعت اسلامی کے لیڈر نے