انوارالعلوم (جلد 24) — Page 362
انوار العلوم جلد 24 362 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان دہر یہ ہو جاتا ہے تو کیا وہ اُس مملکت کی رعایا کے حقوق سے محروم ہو جاتا ہے؟ جواب: میرے نزدیک تو ایسا نہیں لیکن اسلام میں دوسرے ایسے فرقے پائے جاتے ہیں جو ایسے شخص کو موت کی سزا دینے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔سوال: اگر کوئی شخص مرزا غلام احمد صاحب کے دعاوی پر واجبی غور کرنے کے بعد دیانتداری سے اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ آپ کا دعویٰ غلط تھا تو کیا پھر بھی وہ مسلمان رہے گا؟ جواب: جی ہاں۔عام اصطلاح میں وہ پھر بھی مسلمان سمجھا جائے گا۔سوال: کیا آپ کے نزدیک اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو سزا دے گا جو غلط مذہبی خیالات یا عقائد رکھتے ہوں لیکن دیانتداری سے ایسا کرتے ہوں؟ جواب: میرے نزدیک سزاء جزاء کا اصول دیانتداری اور نیک نیتی پر مبنی ہے نہ کہ عقیدہ کی صداقت پر۔سوال: کیا ایک اسلامی حکومت کا یہ مذہبی فرض ہے کہ وہ تمام مسلمانوں سے قرآن اور سنت کے تمام احکام کی جن میں حقوق اللہ کے متعلق قوانین بھی شامل ہیں پابندی کرائے؟ جواب: اسلام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ گناہ کی ذمہ داری انفرادی ہے اور ایک شخص صرف اُن ہی گناہوں کا ذمہ دار ہوتا ہے جن کا وہ خود مر تکب ہوتا ہے۔اس لئے اگر اسلامی مملکت میں کوئی شخص قرآن و سنت کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اُس کا وہ خود ہی جواب دہ ہے۔بجواب سوالات عدالت بتاریخ 14 جنوری 1954ء سوال: کل آپ نے کہا تھا کہ گناہ کی ذمہ داری انفرادی ہوتی ہے۔فرض کیجئے کہ میں ایک مسلم حکومت کا مسلمان شہری ہوں اور میں ایک دوسرے شخص کو قرآن و سنت کی کوئی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔کیا میرا یہ مذہبی فرض ہے کہ