انوارالعلوم (جلد 24) — Page 337
انوار العلوم جلد 24 337 سیر روحانی (7) مگر آج اُنیس سو سال گزر گئے اُس کے ذریعہ سے خدا کی بادشاہت جو آسمان پر ہے زمین پر قائم نہیں ہوئی۔لیکن یہ شخص جو ایک ایسے کچے مکان میں رہ کے اور اس نوبت خانہ میں آکے خدا تعالیٰ کا پیغام سناتا ہے ،وہ ابھی مرنے نہیں پاتا کہ خدا کی بادشاہت دنیا میں قائم ہو جاتی ہے۔اور اُس کی وفات کے نو سال کے اندر اندر سارے عرب پر بادشاہت قائم ہو جاتی ہے۔وہ کھڑا ہوتا ہے اور ایسے وقت میں جب دشمن کی فوجیں اُسے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے کھڑی ہیں ، مدینہ سے باہر نکل کر پاخانہ کوئی پھر نہیں سکتا ، خندق کھودی جاتی ہے تا دشمن کے حملہ سے بچائے۔ایک پتھر نہیں ٹوٹتا۔صحابہ کہتے ہیں يَارَسُولَ اللهِ ! پتھر نہیں ٹوٹتا۔فرماتے ہیں لاؤ ہتھوڑا مجھے دو میں توڑتا ہوں۔آخر پتھر پر ہتھوڑا مارتے ہیں۔وہ پتھر بڑا سخت ہے۔اُس پر ہتھوڑا مارتے ہیں تو اس میں سے شعلہ نکلتا ہے۔پھر مارتے ہیں پھر شعلہ نکلتا ہے۔آپ ہر دفعہ کہتے ہیں اللهُ أَكْبَرُ اللہ اکبر۔پھر تیسری دفعہ مارتے ہیں۔جب شُعلہ نکلتا ہے پھر اللہ اکبر کہتے ہیں۔صحابہ بھی الله اكبر کہتے ہیں۔آپ نے فرمایا تم نے کیوں اللهُ أَكْبَرُ کہا ؟ انہوں نے کہا يَارَسُوْلَ اللہ ! آپ نے کیوں کہا؟ آپ نے فرمایا۔میں نے پہلی دفعہ پتھر پر ہتھوڑا مارا تو اس میں سے شُعلہ نکلا اور اُس شُعلہ میں سے خدا تعالیٰ نے مجھے دکھایا کہ قیصر کی حکومت توڑ دی گئی۔اور میں نے کہا اللہ اکبر۔جب میں نے دوسرا ہتھوڑا مارا تو پھر اُس میں دوسر اشعلہ نکلا اور مجھے یہ نظارہ دیکھایا گیا کہ کسرای کی حکومت توڑ دی گئی پھر میں نے اللهُ أَكْبَرُ کہا۔جب میں نے تیسر اہتھوڑا مارا، مجھے دکھایا گیا کہ حمیر کی حکومت توڑ دی گئی۔اس پر پھر میں نے اللہ اکبر کا نعرہ مارا۔صحابہ نے کہا يَارَسُولَ اللہ ! ہمارے بھی نعرے اِسی طرح سمجھ لیجئے۔68 قیصر و کسری کی حکومتوں کی جگہ خدائے واحد کی حکومت قائم کر دی گئی پھر آپ نے فرمایا اِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ خدا قیصر کو میرے سپاہیوں کے مقابلہ میں شکست دے گا اور ایسی شکست دے گا کہ اس کے بعد دنیا میں کوئی قیصر نہیں ہو گا اور خدا تعالیٰ میرے آدمیوں کے ذریعہ سے کسرای کو شکست دے گا اور ایسی شکست دے گا کہ دنیا میں اس کے بعد کوئی کسری نہیں کہلائے گا۔