انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 328

انوار العلوم جلد 24 328 سیر روحانی (7) ہے۔گورنرنے کہا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ آپ غلط فہمی میں رہیں اور جواب نہ دیں جس سے بادشاہ چڑ جائے اگر ایسا ہوا تو عرب کی خیر نہیں، وہ اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجادے گا آپ چلے چلئے۔آپ نے فرمایا کوئی بات نہیں تم دو تین دن ٹھہر و۔پھر وہ دوسرے دن آئے۔تیسرے دن آئے۔لیکن آپ یہی کہتے رہے کہ ابھی ٹھہرو۔ابھی ٹھہرو۔تیسرے دن انہوں نے کہا کہ اب ہماری میعاد ختم ہو رہی ہے، بادشاہ ہم سے بھی خفا ہو گا آپ ہمارے ساتھ چلیں۔آپ نے فرمایا سنو! آج رات میرے خدا نے تمہارے خدا کو مار ڈالا ہے جاؤ یہاں سے چلے جاؤ اور گور نر کو اطلاع دے دو۔اُن کو تو خدائی کلام کا کچھ پتہ ہی نہیں تھا۔انہوں نے سمجھا کہ شاید یہ گپ ماری ہے۔انہوں نے سمجھاناشروع کیا کہ یہ نہ کریں۔دیکھیں آپ گورنر کی سفارش سے چھوٹ کر آجائیں گے ورنہ عرب تباہ ہو جائے گا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔میں نے تمہیں بتادیا ہے جاؤ اور اُسکو جواب دیدو۔خیر وہ یمن میں آئے اور انہوں نے گورنر سے کہا کہ انہوں نے تو ہمیں ایسا جواب دیا ہے۔یمن کا گورنر سمجھدار تھا۔اُس نے کہا اگر اس شخص نے ایران کے بادشاہ کو یہ جواب دیا ہے تو کوئی بات ہو گی۔اسلئے تم انتظار کرو چنانچہ وہ انتظار کرتے رہے۔کسرای قتل کر دیا گیا دس بارہ دن گزرے تھے کہ ایک جہاز وہاں پہنچا۔اس نے آدمی مقرر کئے ہوئے تھے کہ اگر کوئی خبر آئے تو جلدی اطلاع دو۔انہوں نے اطلاع دی کہ ایک جہاز آیا ہے اور اُس پر جو جھنڈا ہے وہ نئے بادشاہ کا ہے۔اُس نے کہا جلدی اُن سفیروں کو لے کر آؤ۔جب وہ گورنر کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا ہمیں بادشاہ نے ایک خط آپ کو پہنچانے کے لئے دیا ہے۔اس نے خط دیکھا تو اس پر مہر ایک اور بادشاہ کی تھی۔اُس نے اپنے دستور کے مطابق خط کو سر پر رکھا، آنکھوں پر رکھا اور اُسے چوما اور پھر اُسکو کھولا تو وہ بادشاہ کی چٹھی تھی جس میں لکھا تھا کہ پہلے بادشاہ کے ظلم اور سختیوں کو دیکھ کر ہم نے سمجھا کہ ملک تباہ ہو رہا ہے اس لئے فلاں رات ہم نے اس کو قتل کر دیا ہے اور ہم اس کی جگہ تخت پر بیٹھ گئے ہیں۔اور یہ وہی رات تھی