انوارالعلوم (جلد 24) — Page 316
انوار العلوم جلد 24 316 سیر روحانی (7) والہانہ ہو رہی ہے اور مجھے بھی ویسا ہی بننا چاہئے تب وہ خود بھی اُس کے دل کی کیفیت کے مطابق دوڑنا شروع کر دیتا ہے۔پس اس آیت میں مسلمان سواروں کے دل کی کیفیت کی شدت گھوڑوں کی حالت سے بتائی ہے کہ ان کے جذبات اس قدر بھڑک رہے ہونگے کہ اُس کا اثر خود گھوڑوں پر بھی جا پڑے گا اور وہ اپنے سوار کی قلبی کیفیت کے مطابق قابو سے باہر ہو جائیں گے اور کو دیں گے اور لڑائی میں جاتے ہوئے گلے سے اُن کی آوازیں نکلیں گی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے لڑائی کے میدان میں اس طرح جائیں گے کہ گویا کسی بڑی شادی میں شامل ہونے کے لئے جا رہے ہیں۔جس کے یہ معنے ہیں کہ مسلمان مجاہد کثیر التعداد دشمن سے ڈرے گا نہیں بلکہ جنگ کو ایک نعمت غیر مترقبہ سمجھے گا اور یقین رکھے گا کہ اگر میں مارا گیا تو جنت میں جاؤنگا اور اگر زندہ رہا تو فتح حاصل کرونگا کیونکہ ان دو کے سوا اور کوئی تیسری صورت مسلمان کے لئے نہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار سے کہو کہ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ 62 یعنی تم جو ہم سے دشمنی کرتے ہو اور ہم پر حملے کرتے ہو تو یہ بتاؤ کہ تمہیں ہمارے متعلق کیا امید ہے؟ دو ہی چیزیں ہماری ہیں تیسری تو ہو نہیں سکتی۔یا تو یہ کہ ہم زندہ رہیں تو جیت جائیں اور یا ہم مارے جائیں اور جنت میں چلے جائیں۔ان دونوں میں سے کونسی چیز ہمارے لئے نقصان دہ ہے۔آیا ہمارا جیت جانا ہمارے لئے نقصان دہ ہے یا ہمارا جنت میں چلے جانا، دونوں ہمارے لئے برابر ہیں۔ہم زندہ رہے تو فتح حاصل کریں گے اور اگر مر گئے تو جنت میں جائیں گے۔پس تم تو جو بھی ہمارے متعلق خواہش رکھتے ہو وہ ہمارے لئے اچھی ہے۔تم کہتے ہو مر جاؤ حالانکہ اگر ہم مر گئے تو ہم جنت میں چلے جائیں گے۔ایک صحابی کا بیان کہ اُسے اسلام چنانچہ ایک صحابی کے متعلق آتا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں آخر میں مسلمان قبول کرنے کی کیسے تحریک ہوئی؟ ہوا تھا اور میرے مسلمان ہونے کی