انوارالعلوم (جلد 24) — Page 313
انوار العلوم جلد 24 313 سیر روحانی (7) حضرت مالک کی غیر معمولی پھر فرماتا ہے چونکہ ہم نے اخلاقی بنیا دوں پر مسلمانوں کو قائم کر دیا ہے اس لئے شجاعت اور اُن کا واقعہ شہادت مسلمان سپاہی ایسا ہے کہ فَمِنْهُم مَّنْ قضى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ کوئی تو ایسا ہے کہ اس نے اپنے وعدے پورے کر دیئے ہیں اور کوئی ابھی انتظار میں ہے کہ جب بھی موقع ملے گامیں اپنا سب کچھ قربان کر کے پھینک دونگا۔چنانچہ مشہور واقعہ ہے کہ بدر کی جنگ کے بعد جب صحابہ نے آکر بیان کیا کہ لڑائی ہوئی تو ہم یوں لڑے اور ہم نے یوں بہادری دکھائی تو ایک صحابی جن کا نام مالک تھا وہ اتفاقاً لڑائی میں نہیں گئے تھے کیونکہ بدر کی جنگ میں جانے کا سب کو حکم نہیں تھا۔جب وہ یہ باتیں سنتے تھے تو انہیں غصہ آجاتا تھا اور وہ مجلس میں ٹہلنے لگ جاتے تھے اور کہتے تھے کیا ہے یہ لڑائی جس پر تم فخر کرتے پھرتے ہو موقع ملا تو ہم دکھائیں گے کہ کس طرح لڑا جاتا ہے۔اب بظاہر غرور کرنے والا آدمی بُزدل ہوا کرتا ہے مگر وہ اخلاص سے کہتے تھے۔جب اُحد کا موقع آیا تو اللہ تعالیٰ نے اُن کو بھی لڑنے کا موقع دے دیا جب فتح ہو گئی تو چونکہ وہ بھوکے تھے کھانا انہوں نے نہیں کھایا تھا چند کھجوریں اُن کے پاس تھیں جنگ کے میدان سے پیچھے آکر انہوں نے ٹہلتے ٹہلتے کھجوریں کھانی شروع کیں۔اتنے میں پیچھے سے خالد نے آکر حملہ کیا اور اسلامی لشکر اس اچانک حملہ سے تتر بتر ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خبر مشہور ہو گئی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔حضرت عمر پیچھے آ کے ایک پتھر پر بیٹھ کر رونے لگ گئے۔مالک ٹہلتے ٹہلتے جو وہاں پہنچے تو کہنے لگے عمرہ تمہاری عقل ماری گئی ہے خدا نے اسلام کو فتح دی ، دشمنوں کو شکست دی اور آپ ابھی رو ر ہے ہیں۔عمر کہنے لگے مالک ! تمہیں پتہ نہیں بعد میں کیا ہوا؟؟ انہوں نے کہا کیا ہوا؟ کہنے لگے پہاڑ کے پیچھے سے یکدم دشمن نے حملہ کیا، مسلمان بالکل غافل تھے حملہ میں لشکر بالکل تتر بتر ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے۔چند کھجوریں جو اُن کے پاس تھیں اُن میں سے ایک اُن کے ہاتھ میں باقی تھی وہ کھجور انہوں نے اُٹھائی اور اُٹھا کر زمین پر ماری اور مار کے کہنے لگے۔میرے اور جنت کے درمیان