انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 281

انوار العلوم جلد 24 281 سیر روحانی (7) طرف سے ہجرت کی اجازت نہیں تم ہجرت کر جاؤ۔صحابہ نے کہا۔يَا رَسُولَ اللهِ ! ہمیں کون ملک پناہ دے گا؟ آپ نے فرمایا سمندر پار حبشہ کا ایک ملک ہے اُس میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا بادشاہ مقرر کیا ہے جو انصاف پسند ہے اُس میں چلے جاؤ۔چنانچہ بعض صحابہ نے فیصلہ کر لیا کہ اس ملک میں ہجرت کر کے چلے جائیں۔اُن میں ایک صحابی اور اُن کی بیوی بھی تھیں۔وہ جانتے تھے کہ انہوں نے ہمیں ہجرت بھی نہیں کرنے دینی جیسے پارٹیشن کے موقع پر ہوا تھا کہ جو لوگ ہجرت کر کے آنا چاہتے تھے اُن کو بھی ہندو اور سکھ نہیں آنے دیتے تھے۔اسی طرح وہ لوگ جانتے تھے کہ مکہ والوں نے ہمیں ہجرت کر کے نہیں جانے دینا اس لئے رات کے وقت وہاں سے بھاگتے تھے تا کہ کسی طرح بچ کے نکل جائیں۔ایک دن ایک مسلمان اور ان کی بیوی نے فیصلہ کیا کہ ہم ہجرت کر جائیں اور فیصلہ کیا کہ رات کے وقت ہم دونوں اونٹ پر سوار ہو کر چلے جائیں گے۔حضرت عمر اُس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔وہ چونکہ حفاظت مکہ پر مقرر تھے وہ رات کو مکہ کا پہرہ دیا کرتے تھے کہ دیکھیں کیا حالت ہے شہر میں کوئی مخالفانہ رویہ تو نہیں۔وہ گشت لگاتے لگاتے پہنچے تو یہ لوگ اونٹ پر اسباب لاد رہے تھے حضرت عمرؓ اس وقت تک اسلام کے سخت مخالف تھے انہیں شبہ ہوا کہ یہ بھاگنا چاہتے ہیں۔چنانچہ اُس عورت کو مخاطب کر کے کہنے لگے کیوں بی بی! کیا نیتیں ہیں اور کدھر کے ارادے ہیں ؟ خاوند نے ٹلا کر کچھ اور بات کہنی چاہی مگر عورت کے دل کو زیادہ چوٹ لگی۔وہ آگے سے غصہ سے کہنے لگی عمرا یہ بھی کوئی انصاف ہے کہ ہم تمہارے شہر میں تمہارا کچھ بگاڑتے نہیں، کوئی شرارت نہیں کرتے، تمہارے ساتھ لڑائی نہیں کرتے، دنگا نہیں کرتے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہتے ہیں اور تم وہ بھی نہیں کرنے دیتے اور ہم یہاں سے جانا چاہتے ہیں تو کر اور تم ہمیں جانے بھی نہیں دیتے، ظلم کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔آدھی رات کو ایک عورت کو اونٹ پر سامان لادتے دیکھ کر حضرت عمرؓ کے دل کو چوٹ لگی آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور منہ پھیر لیا۔پھر پیٹھ پھیر کر اُن کا نام لیا اور کہنے لگے بی بی! اللہ تمہارے ساتھ ہو جاؤ۔21 گویا یہ حالت تھی اُن لوگوں کی کہ اُن کو نکلنے بھی نہیں دیا جاتا تھا اور اُن کے لئے