انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 271

انوار العلوم جلد 24 271 سیر روحانی (7) ہمارے بھائی بخشے گئے انہوں نے ہمارے ساتھ سختیاں کر لیں تو کیا ہوا۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُن کو معاف کرتے وقت یہی سمجھتے ہونگے کہ اُن میں میرے چچا بھی تھے بھائی بھی تھے ، ان میں میرے داماد ، عزیز اور رشتہ دار بھی تھے اگر میں نے اِن کو معاف کر دیا تو اچھا ہی ہوا میرے اپنے رشتہ دار بچ گئے۔صرف ایک شخص تھا جس کی مکہ میں کوئی رشتہ داری نہیں تھی، جس کی مکہ میں کوئی طاقت نہ تھی، جس کا مکہ میں کوئی ساتھی نہ تھا اور اُس کی بیکسی کی حالت میں اُس پر وہ ظلم کیا جاتا جو نہ ابو بکر پر ہوا، نہ علی پر ہوا، نہ عثمان پر ہوا، نہ عمر پر ہوا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی نہیں ہوا۔جلتی اور تپتی ہوئی ریت پر بلال منگا لٹا دیا جاتا تھا۔تم دیکھو! ننگے پاؤں بھی مئی اور جون میں نہیں چل سکتے۔اُس کو ننگا کر کے تپتی ریت پر لٹا دیا جاتا تھا، پھر کیلوں والے جوتے پہن کر نوجوان اُس کے سینے پر ناچتے تھے اور کہتے تھے کہو خد اکے سوا اور معبود ہیں، کہو محمد رسول اللہ جھوٹا ہے اور بلال آگے سے اپنی حبشی زبان میں جب وہ بہت مارتے تھے کہتے اَسْهَدُ أن لا إلهَ إِلَّا اللهُ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللہ۔وہ شخص آگے سے یہی جواب دیتا تھا کہ تم مجھ پر کتنا بھی ظلم کرو میں نے جب دیکھ لیا ہے کہ خدا ایک ہے تو دو کس طرح کہہ دوں۔اور جب مجھے پتہ ہے کہ محمد رسول اللہ خدا کے سچے رسول ہیں تو میں انہیں جھوٹا کیس طرح کہہ دوں۔اس پر وہ اور مارنا شروع کر دیتے تھے۔مہینوں گرمیوں کے موسم میں اُس کے ساتھ یہی حال ہوتا تھا۔اسی طرح سردیوں میں وہ یہ کرتے تھے کہ اُن کے پیروں میں رسی ڈال کر انہیں مکہ کی پتھروں والی گلیوں میں گھسیٹتے تھے۔چمڑا اُن کا زخمی ہو جاتا تھا۔وہ گھسیٹتے تھے اور کہتے تھے کہو جھوٹا ہے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کہو خدا کے سوا اور معبود ہیں۔تو وہ کہتے اَسْهَدُ اَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اسْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ۔اب جب کہ اسلامی لشکر دس ہزار کی تعداد میں داخل ہونے کیلئے آیا۔بلال کے دل میں خیال آیا ہو گا کہ آج اُن بوٹوں کا بدلہ لیا جائے گا۔آج اُن ماروں کا معاوضہ مجھے ملے گا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو گیاوہ معاف، جو خانہ کعبہ میں داخل ہو گیا وہ معاف، جس نے اپنے ہتھیار پھینک دیئے وہ معاف،