انوارالعلوم (جلد 24) — Page 227
انوار العلوم جلد 24 227 سیر روحانی (7) ہو جاتا ہے اس لئے میں زیادہ وقت نوٹ لکھنے پر بھی نہیں لگا سکتا تھا اور کچھ میری بیماری کی وجہ سے لاہور کے ڈاکٹروں نے جو سنے تجویز کئے وہ ایسے مضعف 2 تھے کہ در حقیقت یہ پچھلا سارا مہینہ ایسا گزرا ہے کہ اکثر حصہ مجھے چار پائی پر لیٹ کر گزارنا پڑتا تھا اور بیٹھنا بھی میرے لئے مشکل ہوتا تھا اور دوائی بھی ایسی تھی جو کہ خواب آور تھی اسلئے اکثر وقت مجھے اونگھ ہی آتی رہتی تھی اور میں کام نہیں کر سکتا تھا۔پس ان مجبوریوں کی وجہ سے میں نے صرف ایک مضمون پر ہی اکتفاء کیا اور آج اُسی مضمون کے متعلق میں کچھ باتیں کہوں گا۔بعض دفعہ الہی تصرف ایسا ہوتا ہے کہ چھوٹی سی باتوں کو اللہ تعالیٰ لمبا کر دیتا ہے۔اور بعض دفعہ طبیعت پر ایسا بوجھ پڑتا ہے کہ لمبی لمبی باتیں بھی مختصر ہو جاتی ہیں اس لئے میں ابھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ نوٹ جو در حقیقت ایک ہی مضمون کے متعلق ہیں اور اپنے خیال میں میں نے انہیں مختصر کیا ہے آیا تقریر کے وقت بھی وہ لمبے ہو جاتے ہیں یا چھوٹے ہو جاتے ہیں۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کے فعل پر منحصر ہے مجھے بھی نہیں معلوم اور آپ کو بھی نہیں معلوم۔نئے لوگوں کی واقفیت کیلئے بعض پرانی باتیں بعض لوگ جو نئے آئے ہیں اُن کی اطلاع کے لئے میں یہ بتاتا ہوں کہ 1938ء میں میں نے ایک سفر کیا تھا۔اُس سفر میں مختلف جگہوں پر جب میں نے مختلف چیزیں پرانے آثار کی یا نیچر کی دیکھیں تو اُن کا میری طبیعت پر ایک گہرا اثر پڑا۔انسانی مصنوعات اور انسانی شان و شوکت کو دیکھ کر اور اسلام کے نشانوں کو مٹا ہوا دیکھ کر اور اُس کی جگہ کفر اور ضلالت کو غالب دیکھ کر میری طبیعت سخت غمزدہ ہوئی اور مجھے بہت رنج پہنچا۔اس سفر میں ہم پہلے بمبئی گئے تھے ، بمبئی سے حیدر آباد گئے، حیدر آباد سے پھر آگرہ آئے ، آگرے سے دِتی آئے اور دلّی میں ایک دن سیر کرتے ہوئے ہم غیاث الدین تغلق کے قلعہ پر چڑھے وہاں سے ہمیں دتی کے تمام مناظر نظر آرہے تھے۔دلی کا پرانا شہر بھی نظر آتا تھا، نیا شہر بھی نظر آتا تھا، قطب صاحب کی لاٹ بھی