انوارالعلوم (جلد 24) — Page 219
انوار العلوم جلد 24 کی خوبی کا یقین دلائیں۔219 (ب) جماعت واقفین کو خاص عظمت دے اور وقف سے بھاگنے والوں کو ذلیل اور نا قابل التفات سمجھے۔اب میں نے دیکھا ہے کہ روپیہ کھا گئے سلسلہ کا۔آجاتے ہیں کہ یہ وقف کیا ہے جی لڑکا۔تو ہمارے اندر توفیق نہیں آپ اس کو بی اے ایم اے کرائیں اور اپنی خدمت پر لگائیں۔اُس کے اوپر آٹھ دس ہزار روپیہ خرچ کر کے ہم تعلیم دلاتے ہیں پھر جس وقت ایم اے ہو گیا بھاگ جاتا ہے۔کہتے ہیں جاؤ نالش کر کے وصول کرو۔دس روپیہ مہینہ دے دیں گے۔اس قسم کے ٹھگ اور پھر جماعت اُن کو سروں پر بٹھاتی ہے۔جماعت کے پریڈیڈنٹ ہمارے پاس آتے ہیں سفارشیں لے لے کے امیر لکھتے ہیں ہو گئی غلطی اب جانے دیجئے۔تو اگر یہ خزانے تمہارے پاس ہیں کہ لاکھوں لاکھ روپیہ تم لوگوں کو دو اور حرام مال کھلاؤ تو تب بھی حرام مال کھانے کی تو جماعت میں عادت پڑ جائے گی چاہے روپیہ تمہارا بچ جائے۔نہ آوے وہ تو الگ رہا مگر حرام خوری کی جب کسی قوم میں عادت پڑی تو پھر اُس کا کوئی ازالہ نہیں ہو سکتا اس لئے جماعت کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جب تم میں سے کوئی حرام خوری کرتا ہے تو تمہارے اندر غیرت ہونی چاہئے کہ تم نے پھر اُس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا۔تعمیر مساجد کی تحریک پھر میں مساجد کی طرف توجہ دلاتا ہوں یہ نہایت اہم مسئلہ ہے۔مساجد اور مراکز باہر کے ملکوں میں ہونے ضروری ہیں۔ان کے بغیر تبلیغ عام نہیں ہو سکتی۔افسوس ہے کہ اس طرف توجہ کم ہے۔جو تجاویز مقرر کی گئی تھیں بہت ہی آسان تھیں مگر اُن پر ابھی تیس فیصدی بھی عمل نہیں ہوا۔زمیندار، مکان بنانے والے، پیشہ ور ، تاجر ، ملازم سبھی کا اکثر حصہ غافل ہے حالانکہ یہ قربانی مشکل نہ تھی آسانی سے لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ چندہ ہو سکتا ہے اور کسی ایک ملک میں مسجد اور مکان بن سکتا ہے مگر اب تک مسجد امریکہ کی زمین جو خریدی گئی ہے اُس کا بھی قرضہ نہیں اترا۔ہالینڈ میں عورتوں نے جو مسجد بنائی ہے اس کا کچھ روپیہ جمع ہے۔مکان، زمین خریدی جاچکی ہے باقی کی میں آج اُن میں تحریک کر چکا ہوں۔