انوارالعلوم (جلد 24) — Page 212
انوار العلوم جلد 24 212 مہینہ کماؤں گا۔میں ان کو دو روپے دے دوں گا تیرہ روپے آپ رکھوں گا۔غرض جتنا اُس سے چندہ مانگیں اُتنا ہی وہ اپنی آمد کو بڑھائے تب جاکے اُس کے اندر بشاشت بھی رہ سکتی ہے۔تب جا کے اُس کے بچوں کی تعلیم بھی ہو سکتی ہے اور تب جاکے اسلام کی عظمت اور طاقت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔تو ہمارے زمینداروں کو چاہئے کہ وہ اپنے اندر عزم کریں بلکہ میں تو ایک تجویز اور بتاتا ہوں کہ زمیندار تبلیغ کے لئے یہ اپنے اوپر فرض کریں اور اگر وہ مثلاً آٹھ کنال ہوتے ہیں یا فرض کر و آٹھ ایکڑ ہوتے ہیں تو وہ یہ کہیں کہ ہم محنت کر کے اب کی دفعہ 9ایکڑ بوئیں گے اور ایک ایکڑ کی آمدن ہم دین کی اشاعت میں دیں گے اس طرح اُن کے مال میں برکت ہو گی۔اگر وہ واقع میں دیانت سے کام لیں گے تو اس آٹھ کی جو آمد اُن کو ہوتی تھی اُس کی جگہ بارہ کی پیدائش ہو گی اور وہ جو ایک زائد ہے وہ بغیر کسی اپنے پاس سے قربانی کرنے کے وہ دین میں دیں گے۔تو ہر زمیندار اپنے اوپر یہ فرض کرلے کہ وہ پانچ فیصدی حصہ اپنی کاشت کا دے دیا کرے۔چندہ کے لئے زائد کاشت کرے اپنی پہلی آمد میں سے نہ دے بلکہ زائد کاشت کرے اور وہ رقم چندہ تحریک میں دے دے۔ہمارا اندازہ یہ ہے کہ دو لاکھ ایکڑ کے قریب ہماری جماعت کے پاس زمین ہے تو دولا کھ میں دس ہزار ایکڑ سالانہ بن جاتی ہے اگر صحیح محنت کے ساتھ اُس پر کاشت کی جائے۔اور اگر فرض کرو دو تہائی بھی لیا جائے کاشت میں سے نسبت کاٹ کر تو پھر بھی اس کے معنے ہیں کہ چھ ہزار ایکڑ کاشت بنتی ہے۔اگر 25 روپے رکھا جائے تو ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی صرف زمینداروں کی آمدن تحریک کے چندہ میں ہو جاتی ہے لیکن اس سے تو زیادہ آمدن ہو جاتی ہے۔میں مثال دینے لگا تھا کہ دیکھو غیر ملکوں نے اپنی پیداوار بڑھانے کے لئے کتنی کوششیں کی ہیں۔ہمارے اس علاقہ میں مکئی دس بارہ من ہوتی ہے سر گو دھا۔لائل پور وغیرہ سنا ہے اچھی مکئی 25-30 من ہو جاتی ہے اور عام طور پر 20-21 سندھ میں یا ادھر دوسرے علاقوں بہاولپور وغیرہ میں ہوتی ہے۔لیکن میں نے امریکہ سے پتہ لگایا تو انہوں نے کہا