انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 210

انوار العلوم جلد 24 210 زیادہ آمد پیدا کریں کیونکہ ہم نے صرف روٹی نہیں کھانی بلکہ اولاد کو تعلیم بھی دلانی ہے اور اس نے دین کی خدمت بھی کرنی ہے۔اگر ہمارا ہر زمیندار اس خیال سے محنت کرے کہ میں نے اپنی اولاد کو تعلیم دلانی ہے، اگر اس خیال سے محنت کرے کہ میں نے دین کی اشاعت کرنی ہے تو اُس کی زمینداری بھی ثواب بن جاتی ہے اور وہ بھی اُس کے لئے نماز ہو جائے گی۔مگر اس کے لئے وہ پوری کوشش نہیں کرتا۔پوری کوشش وہ تبھی کرے گا جبکہ اُس کو دل میں یقین ہو جائے کہ میری اس محنت کے نتیجہ میں دین اسلام پھیل جائے گا، میری اس محنت کے نتیجہ میں میرے بچے تعلیم پا جائیں گے اور پڑھ جائیں گے۔اگر اس پر آئے تو دنیا کے باقی ملک جو ترقی کر رہے ہیں ہم کیوں نہ کریں۔ہمارا مبلغ ایک اٹلی میں تھا وہ آیا۔ہم نے اُسے بعد میں ہٹا دیا تھا بعض تخفیفیں ہوئی تھیں مبلغین کی۔تو میں نے کہا تمہارا گزارہ کس طرح ہوتا ہے ؟ کہنے لگا میں نے انگریز عورت سے شادی کی تھی میر احسر دیتا ہے خرچ۔میں نے کہاوہ کہاں سے لیتا ہے ؟ کہنے لگا اس کا باپ تھا قنصل انگریزی۔چودہ ایکٹر اُس نے اٹلی میں زمین خرید لی تھی وہ اُس نے مرتے وقت چونکہ بے پر ناراض تھا اپنی بیٹی کو دے دی۔بیٹی آگے کسی امیر خاندان میں بیاہی گئی اُس کو اس کی ضرورت نہیں تھی تو اس نے مینجر بنایا ہوا تھا اپنے بھائی کو۔تو وہ میر اخسر ہے وہ مجھے خرچ دیتا ہے اور اُس میں ہمارا گزارہ ہوتا ہے۔میں نے کہا کتنی زمین ہے ؟ کہنے لگا چودہ ایکر۔میں نے کہا چودہ ایکٹر خود کاشت کرتا ہے ؟ کہنے لگا نہیں۔وہ آگے اُس نے اپنے پانچ چھ مزارع بتائے کہ اُن کو اس نے دی ہوئی ہے۔میں نے کہا تو پانچ چھ مزارع بھی اُس پر خرچ کرتے ہیں ؟ اُس نے کہا ہاں۔پھر اس میں وہ بھی خرچ کرتا ہے ؟ کہنے لگا ہاں۔میں نے کہا پھر تمہیں بھی خرچ دیتا ہے۔کہنے لگا ہاں۔میں نے کہا اس بہن کو بھی دیتا ہے؟ کہنے لگا ہاں۔جو بچتا ہے اس کو بھی بھیج دیتا ہے میں نے کہا یہ چودہ ایکڑ ہے یا چودہ ہزار ایکڑ ہے آخر یہ کیا بات ہے؟ اُن کے گزارے ہم سے مہنگے ہیں، ہمار از میندار بیچارہ پندرہ ہیں میں گزارہ کر لیتا ہے وہ ڈیڑھ دو سو سے کم میں گزارہ نہیں کرتا ماہوار۔تو چھ خاندان وہ پل رہے ہیں، ہزار روپیہ مہینہ تو وہ کھا رہے ہیں تیرا وہ انگریز بھی پانچ چھ سو خرچ کرتا ہو گا،