انوارالعلوم (جلد 24) — Page 201
انوار العلوم جلد 24 201 متفرق امور وہ چند کروڑ ہو گئے تھے مگر تم تو نہ تین میں ہو نہ تیرہ میں۔ابھی بہت ہوئے ہی نہیں۔تم کس طرح تھکے بیٹھے جا رہے ہو۔اگر تمہاری تعداد بھی کروڑوں کروڑ ہو چکی ہوتی ، اگر تم بھی دُنیا میں کوئی غلبہ حاصل کر چکے ہوتے ، اگر تم کو دُنیا میں تجارتیں مل جاتیں، تم کو حکومتیں مل جاتیں اور پھر تم سست ہو جاتے تو سمجھ میں آ سکتی تھی کہ تھک گئے۔بے وقوفی سے اُنہوں نے سمجھ لیا کہ ہم نے بڑی ترقی کر لی ہے لیکن تم نے تو ابھی کچھ بھی حاصل نہیں کیا۔ایک آدمی جس نے روٹی کھالی ہو، پیٹ بھرا ہوا ہو وہ اگر کہہ دے کہ شام کا کھانا نہیں کھائیں گے پیٹ بھرا ہوا ہے تو اُس کو بھی ہم بے وقوف ہی سمجھیں گے اور کہیں گے کہ شام کو پتہ لگے گا۔لیکن ایک آدمی جو فاقے بیٹھا ہے وہ اگر کہے ہم نہیں پکاتے پیٹ بھرا ہوا ہے اُس کو سوائے پاگل کے ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔تو تمہارے سامنے تو ایسا کام پڑا ہوا ہے کہ جس میں سے کوئی حصہ تم نے کیا ہی نہیں۔تم خدا کے سامنے بھی جوابدہ ہو ، تم انسانوں کے سامنے بھی جوابدہ ہو ، تم اپنے نفس کے سامنے بھی جوابدہ ہو ، تم اپنی اولادوں کے سامنے بھی جوابدہ ہو۔تمہاری آنے والی اولادیں کہیں گی کہ میرا باپ کتنا بے وقوف تھا کہ اس نے میرے لئے کانٹے بوئے ، کتنا قریب کا زمانہ اس کو ملا، اسے وہ دلائل اسلام کی تائید میں ملے جن کو مسیح موعود نے پیش کیا تھا وہ دلائل ملے جو قرآن کریم کی نئی تفسیروں سے اس کے سامنے آگئے تھے۔وہ ذرائع ملے کہ نوجوان اپنی زندگیاں وقف کر کے آگے آرہے تھے لیکن پھر بھی اس بے وقوف نے اُس وقت قربانی نہ کی اور آج ہمارے لئے یہ امر تباہی اور ذلت کا موجب بنا ہوا ہے۔پس تمہارا فرض ہے تمہاری اولادوں کے لئے ، تمہارا فرض ہے خدا کے سامنے ، تمہارا فرض ہے اپنے نفس کے سامنے ، تمہارا فرض ہے اپنی قوم کے سامنے ، تمہارا فرض ہے اسلام کے سامنے ، تمہارا فرض ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہ تم اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرو اور اسلام کے نام کو دُنیا کے کناروں تک پہنچاؤ۔پس اس کام میں کسی قسم کی کوئی شستی اور اُنیس بیس کا سوال نہیں۔زیادہ سے زیادہ تم یہ کہہ لو گے کہ یہ ہمارا پیر بنا بیٹھا ہے مگر اس کو نہیں پتہ لگا کہ یہ تحریک دائمی ہے۔