انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 197

انوار العلوم جلد 24 197 ایسے اخبار اور رسائل خرید و جو ان کے علاوہ یہ بھی شریف اور تمہاری تائید کرنے والے ہوں جماعت کو چاہئے میں نے کئی دفعہ توجہ دلائی ہے کہ بعض اخبارات ہوتے ہیں شریر دشمن۔اور بعض ہوتے ہیں جو شرافت کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں۔میں نے جماعت کو بار بار توجہ دلائی ہے کہ اپنی زبان کے چسکہ کو نہ دیکھا کرو۔جو شریف اخبار ہیں اُن کو خرید و تا کہ اُن کو مدد پہنچے لیکن مجھے افسوس ہے کہ باہر کی جماعت تو الگ رہی یہاں بھی جب میں پوچھتا ہوں ربوہ میں کون سے اخبار بکتے ہیں؟ تو اکثر جو ہمارے مخالف ہیں وہ بکتے ہیں اور جو تائید میں ہیں وہ نہیں سکتے۔یہ تو گویا اپنی قوم کی آپ دشمنی ہے اور اپنی ناک کٹوانے والی بات ہے۔اصل غرض تو ہماری خبروں کی ہوتی ہے۔جب ہمیں خبریں کسی اخبار سے مل جاتی ہیں تو جسکے کی خاطر ہم اپنے دشمن کی گود کیوں بھریں۔مثلاً پچھلے دنوں میں ڈان“ نے کراچی میں اچھی تائید ہماری زور سے کی ”سول اینڈ ملٹری“ نے لاہور میں کی۔”ملت“ نے لاہور میں کی۔”نوائے وقت“ نے بعض دفعہ تائید بھی کی۔کم سے کم شر میں جب اس نے مخالف بھی لکھا تو اصولی بات پر لکھا جماعتی اختلاف پر نہیں لکھا۔پھر لاہور اخبار ہے اس میں بھی احمدی نقطہ نگاہ جو ہے اُس کی تائید ہی ہوتی ہے خلاف تو نہیں ہو تا۔ہمارے بعض اپنے آدمی اُس کے اخبار میں ایڈیٹر ہیں، تعلق والے ہیں۔تو میں نے دیکھا ہے جب لیں گے تو زمیندار “ لیں گے۔کیا ہے کہ ذرا گالیاں جسکے کی ہیں۔یہ نہیں کبھی میں نے سنا کہ فلانا جوتی زیادہ اچھی مارتا ہے تو میں اپنی بیٹی یا بیوی کو لے جاؤں کہ ذرا سر پر جو تیاں لگادے۔اس میں تو تم یہ کہتے ہو کہ میں کیوں اپنی ذلت کر اؤں اور یہ بڑا مشغلہ ہو رہا ہے کہ حضرت صاحب کو گالیاں دے رہا ہے ، مجھے گالیاں دے رہا ہے ، سلسلہ کو گالیاں دے رہا ہے اور تم لے کر خرید رہے ہو۔اس کو پڑھ رہے ہو ، یہ بڑا اچھا اخبار ہے، بڑا مزا آتا ہے۔میرے خیال میں تو یہ صفرا کی زیادتی ہے صفرا میں میٹھا بُرا لگنے لگ جاتا ہے۔ہر چیز کڑوی لگنے لگ جاتی ہے