انوارالعلوم (جلد 24) — Page 196
انوار العلوم جلد 24 196 پھر اُن کو پھیلائے۔اگر وہ ترجمے پڑے رہیں تو پھر فائدہ کیا۔قربانی کرنی چاہئے اور اپنے بجٹوں میں سے ایک حصہ ایسا ضرور رکھنا چاہئے کہ جس کے ذریعہ سے لٹریچر کو شائع کیا جائے۔اب عیسائی ہے عیسائی کو ہماری تبلیغ وہ اثر نہیں کر سکتی جتنا کہ قرآن اثر کر سکتا ہے۔ہم اس عیسائی کے سامنے آدھا گھنٹہ بات کریں گے تو ایسا ہی ہے جیسے کہ حسین عورت کا کان دکھا دیا۔کسی وقت ہم نے حسین عورت کی بھوں دکھا دی۔کسی وقت ایک حسین عورت کے ہم نے بال دکھا دیئے۔کسی وقت ایک حسین عورت کی ایک ہم نے چھنگلیاد کھا دی۔کسی وقت ہم نے ایک حسین عورت کی دوسری انگلی دکھا دی۔کسی وقت ایک حسین عورت کا ہم نے انگوٹھا دکھا دیا۔کسی وقت ذرا سا برقع اتار کے اُس کا رنگ دکھا دیا۔اس سے تو کوئی عاشق نہیں ہوتا لیکن وہ سامنے آجاتی ہے جب ننگی ہو کر پھر ہر ایک فریفتہ ہو جاتا ہے۔تو قرآن تو ایسا ہے جیسے اسلام کی ہم نے پوری شکل اُس کو دکھا دی اور ہماری تبلیغ ایسی ہے جیسے اس کو کوئی کان دکھا دیا، ناک دکھا دیا، آنکھ دکھا دی۔تو عشق کے پیدا کرنے کے لئے اُس کی ساری صورت کا پیش کرنا ضروری ہے۔پس قرآن جیسی تبلیغ دنیا میں اور کوئی نہیں۔دوسری ساری باتیں اِس کی مُحمد ہیں اور وہ ایسی ہی ہیں جیسے ایک حسین عورت کے ساتھ ایک اچھا دوست مل جاتا ہے۔کسی کی بیٹی ہے اُس کی شادی کرنی ہے تو اسلام نے جائز رکھا ہے شادی ہونی ہو تو دیکھ لے۔2 ادھر وہ دکھاتا بھی ہے پھر ساتھ زبانی بھی تعریف شروع کر دیتا ہے کہ یہ ایسی اچھی ہے ، ایسی نیک ہے، ایسی بھلی مانس ہے تو ہماری تبلیغ تو ایسی ہی ہے جیسے کہ دیکھی ہوئی خوبصورت عورت کے آگے کوئی کہہ دے بڑی شریف ہے ، بڑی نیک عورت ہے ، تمہارے گھر میں برکت آجائیگی۔تو اصل تو یہی چیز ہے جب ایک انسان عورت کو دیکھے گا، اُس کی عقل کو دیکھے گا، اُس کے علم کو دیکھے گا توہ فیصلہ خود کرے گا شریعت نے اُس کے اختیار میں رکھا ہے فیصلہ کرے۔لوگوں کی باتوں پر تو نہیں رکھا۔اس لئے اصل اسلام لانا جو ہے تو قرآن کے اوپر ہے۔ہماری باتوں سے تو صرف ایک ضمنی تائید ہوتی ہے ورنہ اصل خوبصورتی اسلام کی قرآن سے ہی پتہ