انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 166

انوار العلوم جلد 24 166 متفرق امور تو حقیقت یہ ہے کہ اس نازک دور میں ہمارے لئے ایسے سخت حالات ہیں کہ اُن کا قیاس کر کے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس روپیہ کم ہے سامان کم ہے۔ہمارے پاس آدمی کم ہیں اگر خدانخواستہ کوئی صورت اختلاف کی پید اہو جائے تو اس میں بڑے نقائص ہیں لیکن کم سے کم ہم دعائیں تو کر سکتے ہیں۔یہ نہ سمجھو کہ کسی اور پر مصیبت آئے گی۔جب اِدھر کوئی مصیبت پیدا ہو تو وہ بھی تم پر آئے گی اُدھر ہو وہ بھی تم پر آئے گی کیونکہ تم نگو ہو۔وہ ہندوستانی بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ساری خرابی انہی کی ہے۔یہ پاکستان بنوایا تو احمدیوں نے بنوایا۔اگر پاکستان کو مضبوط کرتے ہیں تو احمدی کرتے ہیں۔اگر پاکستان کو طاقت دیتے ہیں تو یہی دیتے ہیں۔ان کو بھی یہی خیال ہے۔تم یہ نہ خیال کر لینا کہ تمہاری اِدھر کی مخالفت کی وجہ سے وہ تم کو بھول جائیں گے وہ سب سے پہلے تم پر ہی حملہ کریں گے اس لئے تمہارا فرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہو کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بچائے، ساتھ اس کے ہم کو بھی بچائے تاکہ شر سے مسلمان محفوظ رہ کے وہ جو خدا تعالیٰ نے عزت اور ترقی کی طرف مسلمانوں کا قدم اٹھایا ہے وہ آگے بڑھتا چلا جائے اور اس میں کوئی خلل نہ پید اہو۔صحیح مشورہ دیا کرو دوسرا علاج صحیح مشورہ ہے اور یقینا اس کا اثر ہو جاتا ہے۔ย دیکھو حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ میں لڑائی تھی کوئی معمولی لڑائی تو نہیں تھی۔اسلام کے اتنے قرب کے باوجود دونوں لشکر لئے ہوئے ایک دوسرے کو مارنے کے لئے تیار پھرتے ہیں مگر جب روما کے بادشاہ نے یہ لڑائی دیکھ کر فیصلہ کیا کہ وہ آپ ان پر حملہ کرے تو اُس نے اپنے افسروں سے مشورہ کیا۔سارے جرنیلوں نے کہا کہ بڑا عمدہ موقع ہے۔ان میں لڑائی ہے حملہ کر دو۔اُن کا جو بڑا بشپ (پادری) تھاوہ بڑا ہو شیار تھا۔اُس نے کہا بادشاہ! میں تمہیں ایک سبق دیتا ہوں اس کو دیکھ لو اور پھر خیال کر لینا۔کہنے لگا ذرا دو گتے منگوائیے بڑے تیز تیز اور شیر منگوائیے۔گتے منگوا کر کہنے لگا ان کو ذرا فاقہ دیجئے اور کل میرے سامنے ان کو لایا جائے۔کتے بلوائے، فاقے دے کر اُن کے آگے پھینکا گوشت۔پس گوشت پھینکا تو دونوں کتے اس پر جھپٹے۔ایک