انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 155

155 انوار العلوم جلد 24 بیٹھ کے کہیں گے کہ وہی کچھ کھائیں گے ، وہی کچھ پہنیں گے۔وہی کچھ لٹائیں گے اور حکومت کریں گے ہم۔حالانکہ حکومت کے پاس کوئی جادو کی چھڑی تو ہے نہیں بہر حال انتظام اسی طرح کرے گی کہ کچھ ہمارا کھانا کم کرے گی، کچھ ہمارا لباس کم کرے گی، کچھ ہمارے اور کام کم کرے گی، کچھ ہم پر ٹیکس زیادہ کرے گی لیکن ہمارے ملک میں اس کو بڑا بُرا سمجھا جاتا ہے۔حکومت کے خلاف اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ یہ کیوں کرتی ہے؟ اور ادھر ساتھ ہی اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ انتظام کیوں نہیں کرتی؟ تو اس کی وجہ سے اس مشکل کو دبانا مشکل ہو جاتا ہے اور وزارتیں ڈرتی ہیں کام کرنے سے کہ اگر ہم نے کوئی قدم اٹھا یا ملک میں ہمارے خلاف رائے پیدا کی جائے گی اور فوراًجو مخالف پارٹی ہوتی ہے وہ شور مچادیتی ہے کہ ہم ایسا کریں گے۔ہم یہ سب کچھ دیں گے یہ غلط کر رہے ہیں حالانکہ کرتے سارے وہی ہیں۔انگریزوں کے زمانہ میں کانگرس والے کہتے تھے یہ انگریز کی ساری شرارت اِس لئے چل رہی ہے کہ جوڈیشل اور ایگزیکٹو اختیارات الگ الگ نہیں کئے ہوئے اور یہی مسلم لیگ کہتی تھی۔لیکن آٹھ سال ہو گئے ہندوستان کو آزاد ہوئے۔آٹھ سال ہو گئے پاکستان کو آزاد ہوئے آج بھی ایگزیکٹو او رجوڈیشل وہی چلی آرہی ہے۔جب اپنے پاس حکومت آئی تو کہتے ہیں نہیں انتظام خراب ہوتا ہے جب انگریز کا زمانہ تھا تو کہتے تھے یہ سارا ظلم اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ جوڈیشل اور ایگزیکٹو اکٹھے ہیں ان کو الگ کریں۔تو پارٹیاں دوسرے کو ذلیل کرنے کے لئے کہہ دیتی ہیں کہ ہم آئیں گے تو ٹیکس معاف کر دیں گے۔اگر تم ٹیکس معاف کر دو گے تو ملک کی فوجوں کو تنخواہ کہاں سے دو گے ؟ تم افسروں کو تنخواہیں کہاں سے دو گے ؟ جھوٹ ہوتا ہے سارا مگر ہمارے عوام الناس تعلیم یافتہ نہیں وہ اس کو سن کر کہ ٹیکس معاف کر دیں گے کہتے ہیں آؤ چلو ہم ووٹ انہیں کو دیں گے انہوں نے ٹیکس معاف کر دینا ہے، ہم ووٹ انہیں کو دیں گے انہوں نے تو فلانی سہولت ہم کو دینی ہے حالانکہ سب بات غلط ہوتی ہے۔وہ آئیں گے تو وہ بھی اسی طرح کریں گے۔پہلے آئیں گے تو وہ بھی اسی طرح کریں گے ملک اس کے بغیر چل ہی نہیں سکتا تو اقتصادی حالت کا جب تک علاج نہ ہو اُس وقت تک کچھ نہیں بن سکتا۔